رجب بٹ اور دیگر کے خلاف اغوا اور ریپ کامقدمہ درج۔۔

معروف یوٹیوبر رجب بٹ، مان ڈوگر اور تین دیگر افراد کے خلاف خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کی درخواست پر اغوا اور ریپ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن پولیس نے رجب بٹ، مان ڈوگر اور تین دیگر افراد کے خلاف ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ خاتون کی درخواست پر سنگین نوعیت کا مقدمہ درج کیا۔ایف آئی آر میں اغوا، ریپ ، بلیک میلنگ اور غیر قانونی حبس بے جا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ان کی دوستی یوٹیوبر رجب بٹ کے رشتہ دار سلمان حیدر سے ہوئی تھی۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ سلمان نے نشہ آور چیز کھلا کر نہ صرف ریپ کیا بلکہ اس عمل کی ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔شکایت کنندہ نے مزید الزام عائد کیا کہ یوٹیوبر رجب بٹ، مان ڈوگر اور دیگر ساتھیوں نے انہیں نواب ٹاؤن کے ایک گھر میں زبردستی قید میں رکھا، جہاں انہیں ہراساں بھی کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خاتون نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور پولیس سے رابطہ کیا۔نواب ٹاؤن پولیس نے واقعے کی تفصیلات درج کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا اور تفتیش کا آغاز بھی کردیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ الزامات کی نوعیت سنگین ہے اور شواہد کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی، تمام فریقین کا مؤقف سن کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں گے اور اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ایک شخص ’س‘ نے ان سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور جلد ہی قریبی دوستی قائم ہو گئی، وہ اکثر انہیں شہر کے مختلف ریسٹورنٹس میں لے جاتا جہاں وہ وقت گزارتے اور کھانا کھاتے۔خاتون کے مطابق مذکورہ شخص نے ایک روز انہیں رائیونڈ روڈ پر ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع اپنے گھر بلایا، خاتون کے مطابق انہوں نے اس شخص پر اعتماد کیا اور اس کے گھر چلی گئی، جہاں ملزم نے کھانے میں نشہ آور چیز ملا کر انہیں بےہوش کیا اور ان کا ریپ کردیا۔خاتون نے بیان دیا کہ جب وہ واپس گھر پہنچی تو انہیں زیادتی کا علم ہوا، لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی، کچھ دن بعد ملزم نے ان کی ایک نازیبا ویڈیو ان کے موبائل پر بھیجی جس سے انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔خاتون کے مطابق جب انہوں نے ملزم سے ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کو کہا تو اس نے وعدہ کیا، لیکن اس کے بعد انہیں بلیک میل کرتے ہوئے مزید جسمانی تعلقات پر مجبور کیا، اس دوران ملزم نے دوبارہ دو بار زیادتی کی اور ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے سے انکار کر دیا۔خاتون نے مزید بتایا کہ وہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ دوبارہ ملزم کے گھر گئی تاکہ مسئلہ حل کیا جا سکے، وہاں موجود اس کے چار ساتھی، جن میں ایک معروف یوٹیوبر ’ر‘ سمیت ’م‘، ’ج‘ اور ’جھ‘ شامل تھے، نے دونوں بہنوں کو ایک کمرے میں بند کر کے ہراساں کیا، بعد ازاں ان کے موبائل سے ویڈیوز ڈیلیٹ کی گئیں مگر جاتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔پولیس نے تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم تاحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، متاثرہ لڑکی نے پولیس سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں