دولت، خطرہ اور پراسرار اموات: سندھ کے دولت مند صحافیوں کی کہانی

تحریر؛ انوار حمید انصاری(حیدرآباد سندھ)

سندھ میں صحافت ہمیشہ ایک مشکل اور خطرناک پیشہ رہا ہے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، ایسا رجحان جس نے نہ صرف اس پیشے کی روح کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ کئی سوالات کو بھی جنم دیا۔ متوسط طبقے یا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے صحافی دیکھتے ہی دیکھتے لگژری گاڑیوں کے مالک بن گئے، پوش علاقوں میں بنگلوں, فلیٹس اور ایڈوانس لیٹسٹ موبائل فونز خرید لیے، بچوں کو مہنگے اسکولوں میں داخل کروایا اور والدین کے لیے بیرون ملک جدید علاج کے انتظامات کیے۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام صحافی جس کی تنخواہ بمشکل گزارے کے لائق ہو، وہ اچانک اتنی بڑی مالی طاقت کہاں سے لے آتا ہے؟ کیا کراچی اور لاہور میں قائم اخبارات اور ٹی وی چینلز اتنی معقول اور بروقت تنخواہیں دیتے ہیں کہ ان سے یہ سب کچھ ممکن ہو سکے، یا ان کے پیچھے کوئی اور کہانی چھپی ہے؟

یہ کہانی صرف دولت کی نہیں بلکہ خوف، سازش اور موت کی بھی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں سندھ کے مختلف شہروں میں ایک درجن کے قریب صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، کچھ کو گولیوں سے بھون دیا گیا، کچھ کی لاشیں پراسرار حالات میں ملیں، اور کئی اموات کو خودکشی قرار دے کر ہمیشہ کے لیے ایک راز میں دفن کر دیا گیا۔ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے وہ گٹھ جوڑ کارفرما ہے جس نے صحافت کو مافیا، خفیہ طاقتوں اور سیاسی کھیل کا حصہ بنا دیا ہے؟

سندھ کے بڑے شہروں کے پریس کلبوں کی پارکنگ میں کھڑی مہنگی گاڑیاں ایک الگ کہانی سناتی ہیں۔ وہ صحافی جو کبھی پرانے شہر کی پرانی بستیوں کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں سے شہر آئے تھے اور محض بائیک پر سفر کرتے تھے، آج لگژری گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کیا یہ سب ان کی پیشہ ورانہ محنت کا نتیجہ ہے یا اس میں خفیہ گروہوں کی عنایات شامل ہیں؟ یہ خفیہ ہاتھ کون ہیں، کون سی طاقتیں ہیں جو صحافیوں کو نوازتی ہیں، اور پھر جب رشتہ ٹوٹتا ہے تو یہ نوازشیں ذہنی اذیتوں سمیت موت میں کیسے بدل جاتی ہیں؟

پریس کلبوں کے ڈرائنگ رومز سے لے کر طاقت کے ایوانوں تک، یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ سندھ کے صحافی کب خبر دینے والے سے خبر بنانے والے بن گئے؟ کب وہ بروکرز، مافیا، بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کے مہروں میں تبدیل ہو گئے؟ اور جب وہ مہرا بے کار ہو جائے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ؟

یہ سوالات محض تجسس نہیں بلکہ سندھ کے میڈیا کلچر کا المیہ ہیں۔ اگر ان سوالوں کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو یہ کہانی یونہی خوف اور راز کے سائے میں دبی رہے گی۔ یہ کہانی صرف دولت مند صحافیوں کی نہیں بلکہ اس نظام کی ہے جو کبھی طاقت دیتا ہے اور کبھی موت۔۔( انوار حمید انصاری،حیدرآباد سندھ)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں