پاکستان میڈیا کو نسل نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی خواتین صحافیوں کے خلاف پری کا ایکٹ کے تحت مقدمات کو شرمناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ مرکزی صدر مهر حمید انور نے کہا کہ سحرش قریشی صاحبہ ، نئیر علی صاحبہ ماہرہ عمران صاحبہ اور شکیکہ جلیل صاحبہ کے خلاف پریکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج آزادی اظہار پر قدغن ہے۔ پاکستان میں خواتین صحافی پہلے ہی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بے شمار رکاوٹوں اور دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات ان مشکلات کو مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اداروں کی کامیابی اور ساکھ کو خواتین کی شمولیت اور ان کی کار کردگی سے جانچا جاتا ہے ، جبکہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ان ہی خواتین کو ہراساں کر کے ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف صحافت کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی توازن اور انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔پاکستان میڈیا کو نسل کی مرکزی و صوبائی قیادت نے خواتین صحافیوں کے خلاف مقدمات کو فلفور خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافیوں کو حراساں کرنے والے غنڈہ گرد عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بے بنیاد مقدمات کو خارج کیا جائے۔
