تحریر:محمد عبداللہ۔۔
لاہور پریس کلب کے وسیع آنگن میں جمع ہونے والے یہ چہرے محض افراد کا ہجوم نہیں، بلکہ ایک خواب کی تکمیل کی خوشی سے روشن دلوں کا قافلہ ہیں۔ یہ وہ اہلِ قلم، اہلِ فکر اور صحافت کی خدمت میں پیش پیش رہنے والے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کا بڑا حصہ سچ کی تلاش، عوام کی آواز اور حق کے اظہار کے نام کیا۔ آج وہ سب ایک ایسے تاریخی لمحے کے گواہ ہیں جس نے ان کے دلوں میں برسوں سے دبی امیدوں کو سچ کر دکھایا۔ اپنی چھت، اپنے گھر اور اپنے محفوظ مستقبل کے اس خواب کی تعبیر آج ممکن ہوئی ہے، اور اس کا سب سے بڑا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا ہے تو وہ ہیں لاہور پریس کلب کے جناب صدر ارشد انصاری ۔یہ وہ شخص یےجس نے یہ خواب صرف دکھایا نہیں، اسے حقیقت بنانے کے لیے ہر مشکل، ہر دروازہ، ہر مرحلہ اور ہر رکاوٹ کو نہ صرف عبور کیا بلکہ اپنی کمیونٹی کے لیے ڈٹ کر کھڑا رہا۔
یہ اکٹھ صرف ایک تقریب نہیں یہ اپنے گھر کا احساس، اپنی چھت کی راحت اور محفوظ مستقبل کے خواب کی پہلی کرن ہے۔ فیز ٹو کی تعبیر ، جو صدر ارشد انصاری کی انتھک محنت، عزم اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے انتہائی مناسب قسطوں پر فراہم کیا جانا واقعی ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ اقدام نہ صرف صحافی برادری کے لیے سہولت کا باعث ہے بلکہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ریاست اپنے قلم کاروں کی قدر جانتی ہے۔
ان باوقار اور تھکے نہ رکنے والے لوگوں کے چہروں پر دکھائی دینے والی طمانیت، اطمینان اور شکرگزاری ایک ایسی تصویر بناتی ہے جو محنت کی جیت، امید کی روشنی اور اتحاد کی طاقت کی گہری علامت ہے۔ یہ صرف گھروں کی خوشی نہیں، یہ عزتِ نفس کی بحالی، محفوظ کل کی بنیاد اور اس برادری کی یکجہتی کا زندہ ثبوت ہے۔
لاہور پریس کلب کا یہ منظر تاریخ میں ایک سنہرا باب بن کر محفوظ رہے گاجہاں قلم والوں نے اپنے خوابوں کا گھر بنتے دیکھا، اور جہاں ایک رہنما نے ثابت کیا کہ سچی قیادت ہمیشہ اپنے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔
ارشد انصاری نے ثابت کر دیا کہ اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے لیے آواز بھی بنتا ہے، ڈھال بھی اور رہنما بھی۔ ان کی قیادت میں لاہور پریس کلب نے صرف ترقی نہیں کی، بلکہ ایک خاندان بن کر ابھرا ہے،ایسا خاندان جس کا ہر فرد آج اپنے گھر کی خوشی ارشد انصاری کے نام کر رہا ہے۔یہ لمحہ، یہ منظر، یہ کامیابی سب ارشد انصاری کے عزم اور محبت کی روشن دلیل ہے۔۔(محمد عبداللہ)۔۔
