اسلام آباد میں ایک سینئر خاتون صحافی اور یونین رہنما کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر مبینہ تشدد اور غیر قانونی حراست کے الزامات کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس پر صحافتی برادری نے احتجاج کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق صحافی جویریہ صدیق کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی نائب صدر فرحت فاطمہ نے الزام عائد کیا کہ 8 مارچ کو خواتین پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بغیر کسی قانونی جواز کے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔اس واقعے کے بعد صحافیوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے ایک میڈیا پروفیشنل کو ہراساں کرنے کا واقعہ قرار دیا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں صحافیوں کے ایک وفد نے کوہسار تھانے میں اے ایس پی نوشیروان سے ملاقات کر کے مبینہ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا۔وفد نے متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ احتجاج کے بعد معاملہ اعلیٰ پولیس حکام تک پہنچا دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق الزامات کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں کی جائیں گی۔تاحال انکوائری کے کوئی حتمی نتائج سامنے نہیں آئے اور نہ ہی پولیس کی جانب سے فرحت فاطمہ کے الزامات پر تفصیلی مؤقف جاری کیا گیا ہے۔
