حکومتی  مراعات پر مخصوص  صحافیوں کی اجارہ داری کیوں؟

تحریر: سرور تالپور۔۔

یونین آف جرنلسٹس بلوچستان کے نام پر برسوں سے صرف کوئٹہ کے صحافی ہی حکومتی مراعات اور پروٹوکول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں حال ہی میں وزیر اعلی بلوچستان نے صحافیوں کے لیے رہائشی فلیٹس اور دیگر مراعات کا اعلان کیا ہے مگر سب کو بخوبی علم ہے کہ ان سہولتوں سے وہی افراد فائدہ اٹھائیں گے جو پہلے ہی مراعات یافتہ طبقات میں شامل ہیں یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس نے صوبے کے اندر صحافتی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔۔

بلوچستان کی اصل زمینی صحافت اندرون بلوچستان کے مقامی صحافی انجام دیتے ہیں جو دور دراز اور خطرناک علاقوں میں جا کر رپورٹنگ کرتے ہیں وہی شورش زدہ علاقوں کی کوریج کرتے ہیں وہی امن و امان کی خراب صورتحال کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خبریں دنیا تک پہنچاتے ہیں مگر بدلے میں نہ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہوتا ہے نہ انہیں وہ سہولیات ملتی ہیں جن کے وہ اصل حق دار ہیں ریاستی دباؤ ہو یا غیر ریاستی دھمکیاں مالی مشکلات ہوں یا انتقامی کاروائیاں ان کا سامنا ہمیشہ مقامی صحافی ہی کرتے ہیں لیکن جب مراعات کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو سب کچھ چند مخصوص افراد میں تقسیم ہو جاتا ہے جن کا صحافتی خطرات سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔۔

کوئٹہ کے مرکزی صحافی اندرون بلوچستان کے صحافیوں کے مسائل پر نہ آواز اٹھاتے ہیں نہ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اگر کوئی مقامی صحافی دھمکیوں کا شکار ہو یا اس پر حملہ ہو جائے یا اسے خوفناک حالات میں رپورٹنگ کرنا پڑے تو کوئٹہ کے بڑے صحافیوں کی جانب سے شاذ و نادر ہی کوئی رد عمل سامنے آتا ہے مگر جیسے ہی مراعات یا پروٹوکول کا اعلان ہوتا ہے وہ سب اتفاق رائے کے ساتھ صف میں سب سے آگے نظر آتے ہیں ان کا یہ رویہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے اور اخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہے۔۔

اگر یونین آف جرنلسٹس واقعی پورے بلوچستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے چاہیے کہ مراعات کی تقسیم میں اندرون بلوچستان کے صحافیوں کو بھی برابر کا حصہ دے ان کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائے اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرے لیکن چونکہ یونین کی سرگرمیاں سوچ اور مفادات ہمیشہ کوئٹہ تک محدود رہے ہیں اس لیے اسے یونین آف جرنلسٹس بلوچستان کہنا اپنی جگہ ایک بڑا سوال ہے حقیقت میں یہ یونین آف جرنلسٹس کوئٹہ کہلانے کی زیادہ مستحق ہے کیونکہ اس کی پہچان اور اس کا فائدہ صرف کوئٹہ تک محدود ہے۔۔

اندرون بلوچستان کے صحافی وہ لوگ ہیں جو اس پورے صوبے کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لاتے ہیں ان کی رپورٹنگ ہی بلوچستان کی حقیقی صحافت ہے مگر بدلے میں انہیں نہ نمائندگی ملتی ہے نہ سہولت نہ مراعات نہ سپورٹ وقت آ چکا ہے کہ یہ مقامی صحافی اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں اپنی ایک مضبوط حقیقی اور صوبائی سطح کی تنظیم بنائیں جو حقیقت میں بلوچستان کی ترجمانی کرے ورنہ صورتحال یہی رہے گی کہ نام پورے بلوچستان کا ہوگا جبکہ فائدہ ہمیشہ چند مخصوص چہروں کے حصے میں آتا رہے گا۔(سرورتالپور)۔۔

(اس تحریرکے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں