گورمے بیکری والوں کا نیوز چینل جی این این عجیب فیصلے کرنے لگا۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین اینکر ز سمیت تمام خواتین اسٹاف کی پک اینڈ ڈراپ سروس بند کرنے کا اعلان کردیاگیا ہے، جس پر عملدرآمد پچیس جولائی سے کیا جائے گا۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ جی این این انتظامیہ کے اس شاہی فرمان سے جہاں ایک طرف تمام خواتین اسٹاف ذہنی اذیت کا شکار ہوگئی ہیں وہیں ایچ آر اسٹاف بھی اس فیصلے پر حیران و پریشان نظر آتا ہے۔پپو کا کہنا ہے کہ صرف یہی نہیں سوشل میڈیا پر انصاف، آئین و قانون کی دہائیاں دینے والے اور آزادی اظہاررائے کا نعرہ بلند کرنے والے جی این این کے سی او او نے چینل میں اے سی بھی بندکرادیئے ہیں جس کے بعد اسٹوڈیو میں شدید گرمی سے اینکرز کا برا حال ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اینکرز کو وارڈوب کا بجٹ بھی دیا جاتا تھا جسے یہ کہہ کربندکردیاگیا ہے کہ ادارے کے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ اے سی بند کرکے بجلی بچانے اور خرچے کم کرنے کے ساتھ ساتھ ادارے میں نئے لوگ بھی نہیں رکھے جارہے ہیں جو چھوڑ کر جارہا ہے اس کی جگہ بھی کسی کو ہائر نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے ورک لوڈ بڑھ گیا ہے اورکم اسٹاف کی وجہ سے اکثریت کام کے پریشر میں رہتی ہے۔ پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سی او او صاحب کے اپنے پروگرام کا بجٹ ایک کروڑ سے دو کروڑکرنے کی بھی مبینہ اطلاعات ہیں۔جس کی ریٹنگ بھی نہیں ہے، جب کہ مالکان کو کہا جارہا ہے کہ اخراجات کو کم کیا جائے۔پپو کا کہنا ہے کہ خواتین اسٹاف کی پک اینڈ ڈراپ سروس بند کرنے کے بعد امکان ہے کہ دس ڈرائیورز کو فارغ کردیاجائے گا۔پپو نے یہ بھی بتایا ہے کہ پک اینڈ ڈراپ سروس بند کرنے کے بعد اینکرز کو پچیس ہزار روپے اور پرڈیوسرز کو پندرہ ہزار روپے اضافی تنخواہ میں دیئے جائیں گے۔۔پپو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خواتین اسٹاف کی پک اینڈ ڈراپ سروس بند ہوجاتی ہے تو دیگر میڈیا ہاؤسز بھی اس پر عمل کرسکتے ہیں، جس کے بعد میڈیا انڈسٹری میں خواتین اسٹاف کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
