ghair qanooni radio station chalane par FIR darj

جیواور ڈان نیوز کے خلاف پیمرا میں درخواستیں دائر۔۔

تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کرنے والے نجی ٹی وی چینلز کے خلاف بھی سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے دو نجی ٹی وی چینلز کے خلاف کاروائی کے لئے پہلے مرحلے میں پیمرا سے رجوع کر لیا۔تحریک کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے آئینی حق کے آڑ میں بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  سوشل میڈیا پر مقدس اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کرنے والے دو نجی ٹی وی چینلز کے خلاف کاروائی کے لئے چیئرمین پیمرا اور کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کو الگ الگ درخواستیں دے دیں۔جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے دی گئی مذکورہ درخواستوں میں نجی ٹی وی چینلز(جیو نیوز اور ڈان نیوز)کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ”مذکورہ ٹی وی چینلز کے پروگرامات میں گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری قانونی اور عدالتی کاروائی پر اثرانداز ہونے اور مذکورہ کاروائی کو متنازع بنانے کے لئے بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کیا۔مذکورہ ٹی وی چینلز پیمرا کے قوانین اور ضابطہ اخلاق کی مسلسل سنگین خلاف ورزی کررہے ہیں۔لہذا مذکورہ ٹی وی چینلز کے خلاف پیمرا آرڈیننس کے تحت کاروائی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ مذکورہ ٹی وی چینلز کے لائسنس کو منسوخ یا معطل کرتے ہوئے بھاری جرمانہ بھی کیا جائے بلکہ مذکورہ ٹی وی چینلز کے مالکان اور متعلقہ اینکرز کے خلاف پیمرا آرڈیننس کی دفعہ 33 کے تحت فوجداری کاروائی بھی کی جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پیمرا نے تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کی درخواست پر کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کی سفارش کی روشنی میں نجی ٹی وی چینلز کو یہ ہدایت جاری کی تھی کہ وہ مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق پروگرامات نشر کرنے سے گریز کریں۔اگر کسی ٹی وی چینل نے پیمرا کے قوانین کے متعلق کوئی معلوماتی پروگرام نشر کرنا ہو تو اس پروگرام میں مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے مدعیان کی نمائندگی لیکر ان کا موقف بھی لینا ضروری ہے۔دوسری طرف نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری قانونی کاروائی کے عمل کے متعلق بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کرنے والے صحافیوں اور یوٹیوبرز کے خلاف درخواستوں پر کاروائی شروع کر دی ہے۔مذکورہ صحافیوں اور یوٹیوبرز کے خلاف کاروائی کے لئے درخواستیں مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے مختلف مدعیان کی جانب سے دی گئی تھیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں