جماعت اسلامی کا پی ایف یوجے کے اعزاز میں استقبالیہ ۔۔

 امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ بلا شبہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے مگر افسوس کہ ملک میں صحافی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، آزادی صحافت، صحافیوں کے حقوق حتیٰ کہ جان کے تحفظ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں، پیکا کے کالے قانون کی منظوری، صحافیوں پر بلا جواز مقدمات، ان کا غواء و قتل آئین، قانون اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے، صحافت پر لگائی جانے والی قدغن کے خلاف صحافیوں کی جدو جہد وقت کی ضرورت ہے، صحافی ریاست کا اثاثہ ہیں، ان کی جان، قلم اور رائے کی آزادی کا تحفظ از حد ضروری ہے، جماعت اسلامی ہمیشہ آزادی صحافت، حق گوئی و سچائی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کھڑی ہوئی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں جماعت اسلامی کی جانب سے پی ایف یوجے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ استقبالیے سے پی ایف یوجے کے صدر افضل بٹ، کے یوجے کے صدر طاہر حسن خان،سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی کراچی زاہد عسکری نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر پی ایف یوجے کے سیکریٹری جنرل ارشد انصاری، مختلف شہروں سے آئے ہوئے صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔منعم ظفر خان نے پیکا قانون میں ترامیم کی منظوری میں شریک پارٹیوں کے نام لیے بغیر کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس کالے قانون کی منظوری میں کون لوگ شریک تھے۔ ملک میں صحافت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پشاور، بلوچستان، اندرون سندھ اور دیگر علاقوں میں صحافیوں کے قتل کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ ان مظالم پر ریاستی خاموشی افسوسناک ہے۔ پچھلے دنوں کی رپورٹیں دیکھ کر انداز ہو تا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں پر حملے ہورہے ہیں،ان کو گرفتاریوں مقدمات کا سامنا ہے، بلوچستان کے لطیف بلوچ کے گھر پر حملہ ہوا اور وہ قتل کر دیے گئے، اب تک کے رپورٹر سید محمد شاہ بھی گھر پر حملے کے بعد قتل ہوئے، صحافیوں کو حراست میں رکھا جاتاہے، گجرات میں صحافیوں پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور ان کے دفتر پر حملہ ہوا، یہ ساری صورتحال صحافیوں اور ہم سب کے لیے پریشان کن ہے۔یہ سب کچھ صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور صحافیوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان کے حقوق غصب کیے جاتے ہیں، ان حالات میں سب کو مل کر حق و سچائی کے لیے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور شائستہ انداز میں بحث و مباحثے کے ذریعے معاملات کو بہتر کرنا اور آگے بڑھانا ہوگا۔منعم ظفر خان نے کہا کہ اگست کا مہینہ یومِ آزادی کا مہینہ ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ظالم قوتوں کے خلاف عوام کو بیدار کریں اور ہر سطح پر آئین و قانون کی بالا دستی اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔افضل بٹ نے کہا کہ کہ کراچی شہر جب لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبتا تھا اور شہری بجلی کے جن مسائل کا شکار تھے تو جماعت اسلامی نے جو تحریک شروع کی اس کا کراچی کو بھی فائدہ ہوا اور پھر اس تحریک کے نتیجے میں ملک بھر کے عوام کو بھی فائدہ ہوا وہ جو بجلی بنانے والی کمپنیاں ہیں انہوں نے بھی اپنے ریٹ کم کیے اور پورے پاکستان کے لوگوں کو کچھ ریلیف ملا جس کا کریڈٹ جماعت اسلامی اور حافظ نعیم ا لرحمن کو جاتا ہے اور پورا پاکستان  اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن خود میڈیا ہاؤسز کا حال یہ ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا،یہاں ٹی وی چینل کے کیمرامین جو جان ہتھیلی پر رہ کر بم دھماکوں، زلزلوں، بارش میں ڈوبے ہوئے کراچی  کے حالات کو کور کرتے ہیں اور  ان کے ساتھ جو رپورٹر ہوتے ہیں شرم کا مقام ہے کیونکہ ان کو بھی 20سے 25ہزار روپے پر رکھا گیا ہے اس لیے پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے گے،چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کے باہر ہمارے دھرنے ہوگے اور پھر بھی معاملہ حل نہ ہوا تو پھر فیصلہ کن دھرنا اسلام آباد میں قومی  اسمبلی کے باہر ہوگا جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے۔طاہر حسن خان  نے کہا کہ ہمارے لئے بڑی حوصلہ افزائی اور خوشی کی بات اور اعزاز ہے کہ جہاں دیگر سیاسی جماعتیں ہمیں ویلکم کر رہی ہیں وہاں جماعت اسلامی نے  ہمارے اعزاز میں پروگرام منعقد کیا۔ سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی اس شہر کی بڑی سٹیک ہولڈر ہے،اس کے دو مرتبہ میئر رہے ہیں جماعت اسلامی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی یہاں سے منتخب ہوتے رہے ہیں خاص طور پر لوکل باڈیز میں ان کا بڑا کام ہے اور اس وقت یہ لوگ ٹاؤنز کی سطح پر کام کررہے ہیں،شہر میں بہت سارے اختیارات حکومت کے پاس ہیں لیکن یہ اپنے طور پر جتنی بھی ممکن ہے کوشش کر رہے ہیں،اُمید ہے کہ آنے والے سالوں میں جماعت اسلامی اس شہر کو ماڈل بنادے گی۔زاہد عسکری نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل اور حقوق  کے لیے جو آواز اٹھائی وہ کسی اور پارٹی نے نہیں اُٹھائی، کراچی کو کوئی پارٹی اُون کرنے کو تیار نہیں، جو لوگ طویل عرصے کراچی میں بر سر اقتدار رہے اور 35 سال تک سیاست کرتے رہے ان کے دور  میں اس شہر کے اندر جو کچھ ہوتا رہا ان آنکھوں نے دیکھا  اور ان صحافیوں نے بھی نہ صرف دیکھا ہے بلکہ بہت سی چیزوں کو بھگتا بھی ہے کہ جب خبر دینا کتنا مشکل ہوا کرتا تھا،بہرحال وہ دور گزر گیا اور آج ہم ایک دوسرے دور کے اندر ہیں، اب جو لوگ 17 سال سے کراچی، سندھ کے اندر برسر اقتدار ہیں انہوں نے بھی اس کراچی کے ساتھ کیا کیا اس سے اہلِ کراچی اچھی طرح واقف ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں