تحریر: سلمان ہاشمی
گزشتہ چند ماہ سے ملک بھر خصوصاً کراچی میں جعلی صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے بعض عناصر نے ’’پریس‘‘ کے نام پر جعل سازی بلیک میلنگ اور ناجائز مفادات کے حصول کو پیشہ بنا رکھا تھا جس پر روک لگانا یقیناً ضروری ہےتاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مہم کے دوران اصل دیانت دار اور مستند صحافی بھی مشکلات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں کئی رپورٹر حضرات کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں بعض کو انتقامی کارروائی کے طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہیں کہیں انہیں دباؤ میں لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں یہ صورتِ حال نہ صرف آزادیِ صحافت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان سینکڑوں محنتی اہلِ قلم کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے جو دن رات عوام تک سچائی پہنچانے کے مشن میں سرگرم ہیں پاکستان میں اہلِ صحافت کے حقوق و تحفظ کے لیے کئی قوانین منظور کیے جا چکے ہیں سندھ صحافی و دیگر میڈیا کارکنان کے تحفظ کا قانون، 2021ء یہ قانون سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا تاکہ صوبے بھر میں کام کرنے والے صحافیوں کو دھمکیوں تشدد بلاجواز گرفتاری اور خوف سے محفوظ رکھا جا سکے اس قانون کے تحت ایک ’’تحفظی کمیشن‘‘ قائم کیا گیا ہے جو کسی بھی شکایت پر تحقیقات کر سکتا ہے اور ذمہ دار سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کا اختیار رکھتا ہے وفاقی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کا قانون 2021ء اس قانون کے مطابق ہر صحافی کو اپنے ذرائع کی رازداری برقرار رکھنے آزادانہ رپورٹنگ کرنے اور اپنی جان و مال کے تحفظ کا حق حاصل ہے ریاستی اداروں اور پولیس کو اس حق میں مداخلت کی اجازت نہیں پریس کونسل آرڈیننس، 2002ء اس قانون میں میڈیا کے اداروں اور صحافیوں کے لیے اخلاقی اصول متعین کیے گئے ہیں تاکہ آزادیِ اظہار کے ساتھ ذمہ داری کا توازن برقرار رہے
اگر کوئی پولیس اہلکار کسی صحافی کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرے دباؤ ڈالے یا انتقامی کارروائی کرے تو اس کے خلاف کئی آئینی و فوجداری دفعات لاگو ہوتی ہیں آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ کا حق حاصل ہےاگر کسی صحافی کے ساتھ غیر قانونی یا امتیازی سلوک کیا جائے تو یہ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہےآئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 یہ شق شہری کے حقِ زندگی اور آزادی کی ضمانت دیتی ہے کسی صحافی کو جھوٹے مقدمے یا خوف کے ذریعے دبانا اس شق کے منافی ہے
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A یہ آرٹیکل منصفانہ سماعت اور انصاف کے حق کو یقینی بناتا ہے اگر کسی رپورٹر کو بغیر ثبوت یا غیر قانونی بنیاد پر مقدمے میں الجھایا جائے تو وہ عدالت سے فوری ریلیف حاصل کر سکتا ہے پاکستان تعزیری قانون (تعزیراتِ پاکستان)دفعہ 182: اگر کوئی شخص جھوٹی اطلاع دے کر کسی کے خلاف مقدمہ درج کرائے تو وہ سزا کا مستحق ہےدفعہ 211: جھوٹا مقدمہ قائم کرنے والے کو سات (7) برس تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے دفعہ 166: اگر کوئی سرکاری ملازم (بشمول پولیس افسر) اپنے اختیار سے تجاوز کرے تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جا سکتی ہے پولیس آرڈر 2002ء اور پولیس ضوابط 1934ء ان قوانین کے مطابق اگر کوئی پولیس افسر غلط ایف آئی آر درج کرے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، تو اس کے خلاف محکمانہ تفتیش معطلی اور سزا کی کارروائی ممکن ہے سندھ صحافی تحفظ قانون کی دفعہ 7 اگر کسی سرکاری افسر کی کارروائی سے کسی صحافی کو نقصان پہنچتا ہے تو کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی سفارش کرےاگر کسی صحافی پر جھوٹا مقدمہ بنایا جائے تو وہ اپنی تنظیم خواہ کراچی یونین آف جرنلسٹس ہو یا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے فوری رابطہ کرے متعلقہ تحفظی کمیشن یا عدالتِ عالیہ میں درخواست دائر کی جا سکتی ہے
ہر صحافی کو اپنے کام کی شناختی دستاویزات ادارہ جاتی اجازت نامہ اور رپورٹنگ کے ثبوت محفوظ رکھنے چاہئیں کسی بھی دباؤ یا غیر منصفانہ کارروائی کی صورت میں قانونی ماہرین سے فوری مشورہ کیا جائے
یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ جعلی صحافیوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے مگر اسی عمل کی آڑ میں حقیقی پیشہ ور اور دیانت دار اہلِ قلم کو نشانہ بنانا ناانصافی اور آئینی خلاف ورزی ہے ریاست پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام معاملات میں غیر جانبداری سے تحقیقات کرے جھوٹے مقدمات ختم کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کو جوابدہ بنائے قلم امانت ہے اور اگر اس پر خوف طاری ہو جائے تو سچائی کی روشنی بجھ جاتی ہےاہلِ قلم کا تحفظ درحقیقت قوم کے ضمیر کا تحفظ ہے۔(سلمان ہاشمی)۔۔
