معروف گلوکار ارشد محمود نے انکشاف کیا ہے کہ اداکاری و گلوکاری کا موقع حاصل کرنے کے لیے وہ تین سال تک پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے گیٹ کے باہر ہر روز آکر کھڑے ہوجاتے تھے اور ان سے تنگ آکر سیکیورٹی گارڈز نے انہیں دھکے دے کر بھگایا بھی تھا۔ارشد محمود نے ’مذاق رات‘ مین شرکت کی۔پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے گلوکار نے بتایا کہ ان کا تعلق سندھ کے چھوٹے سے شہر روہڑی سے ہے، تاہم اب وہ کراچی منتقل ہوچکے ہیں۔ان کے مطابق گلوکاری کرنے سے قبل ہی انہوں نے سرکاری ملازمت حاصل کرلی تھی اور 2016 میں وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں شروع سے ہی گلوکاری کا شوق تھا اور اسی شوق کے چکر میں وہ ہر روز پی ٹی وی کراچی سینٹر کے گیٹ کے باہر کھڑے ہوجاتے تھے، تاکہ وہ کسی پروڈیوسر یا ہدایت کار سے سے ملاقات کرکے اداکاری کا چانس حاصل کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہر روز گیٹ کے باہر دیکھ کر سیکیورٹی گارڈز نے انہیں دھکے تک دیے لیکن وہ اگلے ہی روز دوبارہ آگئے۔ارشد محمود کے مطابق اگلے روز خوش قسمتی سے انہیں پروگرام مینیجر عبدالکریم بلوچ نے گیٹ کے باہر دیکھا اور ان سے حال چال پوچھنے کے بعد انہیں اندر آنے کا کہا اور انہوں نے ہی انہیں پہلا موقع دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں شہرت ’دیکھا جو چہرہ تیرا‘ گانے سے ملی، اسے گانے کی بدولت وہ اسٹار بنے، آج تک وہ اسی گانے کی وجہ سے روزی روٹی کما رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گانا 1995 میں گایا جب کہ اگلے ہی سال ان کا ایک اور گانا ’ہوسکے تو میرا ایک کام کرو‘ بھی کامیاب ہوا اور وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
