تحریر: امجد عثمانی۔۔
پاکستان کے بڑے اخبار روزنامہ جنگ میں دو اگست کو صفحہ اول پر شائع ہوئی تین خبریں بڑی چونکا دینے والی ہیں۔چونکا دینے والی اس لیے کہ یہ شہباز شریف حکومت کی مدح کہنے والے اخبار میں شائع ہوئی ہیں۔یہ بائی لائن سٹوریز ہیں اور بائی لائن سٹوریز وہ ہوتی ہیں جو بہت اہم ہوتی ہیں اور رپورٹر کی کریڈٹ لائن کے بجائے اس کے نام ساتھ شائع ہوتی ہیں۔پہلی خبر”جولائی میں مہنگائی بڑھ کر 4.07فیصد، 7ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی” کی سرخی ساتھ چھپی ہے۔یہ اسلام آباد سے دو رپورٹروں تنویر ہاشمی اور اسرار خان کی مشترکہ خبر ہے ۔خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سالانہ مہنگائی کی شرح جولائی 2025 میں بڑھ کر 4.07 فیصدہوکر 7ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی، جو جون میں 3.2 فیصد تھی اور دسمبر 2024 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔خبر کے مطابق مہنگائی میں اس تیزی کی بنیادی وجہ رہائش اور یوٹیلیٹی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہے، جو جون میں 3.28 فیصد کمی کے بعد جولائی میں 3.56 فیصد بڑھ گئیں۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جو پچھلے مہینے 0.6 فیصد تھا اور اب 2.7 فیصد تک جا پہنچا۔تاہم، خوراک اور غیر الکوحل مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کی سست رفتاری (2.6 فیصد سے کم ہو کر 0.9 فیصد) اور تفریح و ثقافت کے شعبے میں 1.5 فیصد کمی نے مجموعی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا۔ جولائی میں کپڑے، جوتے، الکوحل مشروبات اور تمباکو، گھریلو سامان اور مرمت، صحت، ریستوران و ہوٹل اور متفرق اشیاء و خدمات کی قیمتوں میں بھی نسبتاً کم اضافہ دیکھنے میں آیا۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 4.4فیصد، دیہی میں 3.5فیصد رہی۔ اسٹیٹ بینک نے گرانی پر انتبا ہ دیا ہے،دوسری خبر “دعوے،اقدامات اور اعلانات تاحال بے سود،شہری مہنگی چینی خریدنے پر مجبور: کے عنوان تحت شائع ہوئی ہے۔یہ خبر بھی شہر اقتدار سے پھوٹی اور جنگ کے رپورٹر رانا غلام قادر نے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں ملک میں چینی کی اوسط قیمت سرکاری ریٹ پر لانے میں ناکام ہوگئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات نےچینی کی قیمتوں کے نئے اعدادو شمار جاری کردیئے-سرکاری ریٹ ایک سو تہتر روپے تک اور ملک میں چینی کی اوسط قیمت ایک سو اناسی روپے تنتیس پیسے فی کلو سےنیچے نہ آسکی-ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت ایک سو نوےروپے فی کلو تک ہے،کراچی اور پشاور کےشہری ملک میں سب سے مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔تیسری خبر بھی اسلام آباد سے رپورٹر عاطف شیرازی کی ہے جو “وفاقی حکومت نےشہریوں پرپیٹرولیم لیوی کا بوجھ مزید بڑھادیا” کی سرخی ساتھ شائع ہوئی ہے ۔خبر کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولم لیوی میں 2 روپے 50 پیسے اضافہ کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی74 روپے 51پیسے سے بڑھا کر 77 روپے ایک پیسے کر دی گئی ہے۔اسی طرح پیٹرول پر لیوی 75 روپے 52 پیسے سے بڑھا کر 78 روپے 2 پیسے فی لٹر کر دی گئی ہے ۔پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا اطلاق یکم اگست سے کیا گیا ہے ۔وفاقی حکومت آئی ایم ایف شرائط کے تحت یکم جولائی 2025 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کلائمٹ سپورٹ لیوی الگ سے وصول کررہی ہے۔پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل فی لیٹر 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔یہ تین خبریں نہیں حکومت کے منہ پر تین طمانچے ہیں جو آئے روز مہنگائی میں کمی کے افسانے گھڑتی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے۔کہاں ہیں عوام کو معاشی ترقی کےن جھانسے والے اچھل کودیے وزیر مشیر؟کیا کہتے ہیں حکومت کے ماہرین معاشیات بیچ مہنگائی کی دہائی دیتی ان خبروں کے بیچ ؟؟؟ہم تو صرف اتنا عرض کرسکتے ہیں کہ مہنگائی کا یہی “جن” تحریک انصاف کے” مہاتما” کو نگل گیا۔۔۔۔چھوڑے گا قوم کے “مبینہ خادم” کو بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!!
