کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری سہیل افضل خان اور مجلس عاملہ نے بلوچستان کے وزیر علی حسن بروہی کی جانب سے ضلع حب کے تھانہ بیروٹ میں سینئر صحافی فرحان ملک اور دیگر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کرانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایف آئی آر واہس لینے کا مطالبہ کیا ہے-کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ سینئر صحافی فرحان ملک اور ان کے ساتھیوں پر ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے یوٹیوب کے پروگرام “سسٹم” کے ذریعے صوبائی وزیر علی حسن بروہی کے خلاف مبینہ طور پر منفی میڈیا کمپین چلائی، یہ کمپین بد نیتی پر مبنی اور سیاسی مقاصد کے تحت چلائی گئی تاہم، مقدمے کے اندراج پر کراچی پریس کلب اور ملک بھر کے صحافتی حلقوں نے اس کارروائی کو آزادی صحافت کے خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےکہاہے کہ کسی بھی منتخب نمائندے یا سیاسی شخصیت کے خلاف تنقیدی رپورٹنگ یا رائے دینا صحافتی دائرہ کار میں آتا ہے، جسے جرم قرار دینا آئین میں دی گئی آزادی اظہارِ رائے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے غلط استعمال سے نہ صرف صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے بلکہ یہ عمل ریاستی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ یہ مقدمہ آزادی صحافت کو دبانے کی ایک مثال ہے، جسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگرصحافی برادری ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی-کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود کرنے کی روش بند کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کسی رپورٹ یا پروگرام سے اختلاف ہے تو اس کا جواب میڈیا کے ذریعے یا قانونی نوٹس کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، مگر مقدمات قائم کر کے صحافت کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ کراچی پریس کلب نے اس مقدمے کو فوری طور پر ختم کرنے، صحافیوں کے خلاف کارروائی روکنے اور پیکا ایکٹ کے غلط استعمال کے تدارک کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
