تحریر: عبدالرشید۔۔
مقتدر حلقے اور خاص طور پر ملک کے اعلیٰ ترین ادارے اس معاملے کو دیکھیں اور نیوز ون کے ملازمین کی داد رسی کیلئے اثرو رسوخ کا استعمال کریں اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔
دنیا کا سب سے مشکل کام ظالم کو ظلم سے روکنا اور اسے یہ بتانا ہے کہ وہ ظلم کررہا ہے جس سے اسے بعض رہنا چاہیے۔ لیکن ان دنوں کچھ علیحدہ ہی معاملہ ان دنوں میڈیا والے خود پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں جن کا کام تھا کہ وہ ظلم کا شکار ہونے والوں کی آواز بننے تاہم وہ خود ظلم کا شکار ہیں۔ نہ صرف ظلم کا شکار ہیں بلکہ اسے سہنے پر مجبور ہیں یا مجبور کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں کے یو جے کی جانب سے ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں ملک کے بہت سے میڈیا ہاوسز کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کرنے پر تعجب، افسوس اور مزمت کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان کے اس پیغام کے دوسرے ہی روز ایک نئے اور حال میں فہرست میں شامل ہونے والے میڈیا گروپ نے ملازمین کی تنخواہیں جاری کردیں، ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی پلان کرکے بیٹھے ہوں لیکن بہرحال کریڈٹ پیغام دینے والوں کو جانا چاہیے۔
دوسری جانب پیغام میں جن دیگر اداروں کے نام تھے ان کو نہ ہی شرم آئی اور شاید آئے گی بھی نہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان میں سے ایک میڈیا گروپ میں دو ماہ کی سیلیری ڈیو ہے اور اب تیسرا مہینہ بھی تقریبا اپنے وسط میں پہنچنے کو ہے اور تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے کسی کو بھی کچھ بھی معلوم نہیں۔
الکبیر ڈیوالپرز کے زیر انتظام ایئرویز میڈیا گروپ کے تحت چلنے والے نیوز ون کے ملازمین کی تنخواہوں کے بارے میں تاحال کوئی بھی انتظامی عہدیدار کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں۔ جہاں ملازمین کو دو ماہ کی سیلیری کی ادائیگی کی جانی ہے۔ نہ ہی اس ادارے کے اعلیٰ حکام کو احساس ہے اور نہ ہی شرم آتی ہے کہ ان کی وجہ سے ملازمین کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
نیوز ون میں کام کرنے والوں کی خوراک اور دیگر ضروریات کی اشیا کی کیا بات کریں وہ تو ایک جانب۔۔ تین تین ماہ کے مکانات کے کرایے، بچوں کے اسکولز کی فیس، یوٹیلیٹی بلز کی تاریخیں نکل چکی ہیں لیکن ظلم کی انتہا یہ ہے کہ الکبیر ڈیولپرز کے مالکان اور ان کے زیر انتظام چلنے والی ایئرویز میڈیا گروپ اور نیوز ون کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے اور انہیں ملازمین کے ساتھ ہونے والے معاملات کا احساس تک نہیں۔
ملازمین کی ملک کے مقتدر حلقوں اور خاص طور پر ملک کے اعلیٰ ترین اداروں کے حکام سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں اور الکبیر اور ان کے زیر انتظام چلنے والے نیوز ون کے ملازمین کی داد رسی کیلئے اثرو رسوخ کا استعمال کریں اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔۔(عبدالرشید)
(یہ تحریر عبدالرشید کے سوشل میڈیااکاؤنٹ سے لی گئی ہے )
