ترنول کے صحافی  کے خلاف دائر درخواست عدالت سے خارج

 اسلام آباد کے علاقے ترنول سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی قاسم جمشید کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو عدالت نے ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مؤقف اپنایا کہ درخواست قابلِ سماعت نہیں اور اس میں لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج حفیظ میمن کی عدالت میں ہوئی، جہاں صحافی قاسم جمشید کے وکیل ایڈووکیٹ ملک سیف نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں اور انہیں مبینہ طور پر بدنیتی کے تحت دائر کیا گیا۔وکیلِ صفائی نے عدالت میں متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور ویڈیوز سمیت وہ شواہد پیش کیے جن سے یہ مؤقف ثابت ہوا کہ درخواست سیاسی اور ذاتی دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔ عدالتی فیصلے کے بعد بات کرتے ہوئے صحافی قاسم جمشید نے کہا کہ۔۔میرے خلاف  بدنیتی پر مبنی اور جھوٹی درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مجھے سچ لکھنے اور میرے صحافتی کام سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالنا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ عناصر کی جانب سے پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، جسے وہ صحافت کے خلاف ایک سازش اور دباؤ کا حربہ قرار دیتے ہیں۔مقامی صحافتی حلقوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے جھوٹے مقدمات صحافیوں کو ہراساں کرنے کی ایک کوشش ہوتے ہیں، جسے روکنا ضروری ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں