تحریروں پر پابندی سے خیالات ختم نہیں ہوتے، ایچ آر سی پی۔۔

‏ایکسپریس ٹریبون سے زورین نظامی کے کالم کا ہٹایا جانا پاکستان میں آزادیِ اظہارِ رائے پر بڑھتے ہوئے قدغنوں کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان(ایچ آر سی پی ) کی جانب سے مذمتی بیان میں کہاگیا ہے کہ  ایچ آر سی پی اس عمل کی سخت مذمت کرتی ہے، کیونکہ یہ براہِ راست شہریوں کے آئینی حق اور صحافتی آزادی کی پامالی ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی دانشور یا صحافی نے ریاستی بیانیے سے ہٹ کر سچ لکھنے کی کوشش کی، اسے حکومتی اور غیر مرئی دباؤ کے ذریعے خاموش کرایا گیا۔ یہ سلسلہ ایوب خان کے دور سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک بدستور جاری ہے۔اس کالم میں “جنریشن زی” (نوجوان نسل) کی بیزاری اور ریاست کے فرسودہ طریقوں پر جو تنقید کی گئی، وہ دراصل معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔ کالم کو ہٹانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقتدر حلقے اب مکالمے اور تنقید کو برداشت کرنے کی سکت کھو چکے ہیں۔انٹرنیٹ کی بندش اور فائر وال جیسے اقدامات کے بعد اب تحریروں کو حذف کروانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست عوام کے خیالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ترقی کی علامت ہوتا ہے۔ تحریروں پر پابندی لگانے سے خیالات ختم نہیں ہوتے بلکہ عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست طاقت کے بجائے دلیل کا راستہ اپنائے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں