خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان میں کسی مضمون کو خاموش کرنے کی کوشش اسے مزید بلند آواز بنا دیتی ہے
انسان ہمیشہ سے تجسس کا اسیر رہا ہے۔ یہ ایک فطری جبلّت ہے جس نے صدیوں کے دوران تحقیق، جدّت اور اختلافِ رائے کو جنم دیا۔ ممنوع علم سے لے کر سنسر شدہ خیالات تک، انسان کی یہ خواہش کہ وہ پوشیدہ حقیقت کو جانے، اکثر خوف اور نتائج پر غالب آ جاتی ہے۔ تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جب معلومات پر قدغن لگائی جاتی ہے تو تجسس کم ہونے کے بجائے اور شدت اختیار کر لیتا ہے۔
وہ مضمون جو اپنے متن سے بڑا ہو گیا
حال ہی میں زُورین نظامانی کے مضمون “It Is Over” کے گرد پیدا ہونے والا تنازع، جس پر پاکستان اور بیرونِ ملک بحث ہوئی، اسی رجحان کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ یہ مضمون بذاتِ خود نہ تو کوئی غیر معمولی بات پیش کرتا تھا، نہ سنسنی خیز تھا اور نہ ہی کسی نئی یا انوکھی سوچ کا حامل۔ درحقیقت اس میں پیش کیے گئے دلائل وہی تھے جو برسوں سے پاکستان کے سیاسی مباحث، ٹی وی ٹاک شوز اور عوامی گفتگو کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ مضمون اچانک قومی توجہ کا مرکز بن گیا—اس لیے نہیں کہ اس میں کیا لکھا گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
مضمون کو غور سے پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مانوس خدشات ہی بیان کیے گئے تھے: انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹوئٹر (اب ایکس) پر پابندیاں، یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل مبصرین کے خلاف اقدامات، اور جامعات میں لیکچرز و پریزنٹیشنز کی بڑھتی ہوئی نگرانی۔ یہ وہ موضوعات ہیں جنہیں سیاست دان، کارکن، صحافی اور ماہرینِ تعلیم برسوں سے اٹھاتے آئے ہیں۔ یہ باتیں پرائم ٹائم ٹی وی پر زیرِ بحث رہی ہیں، پارلیمنٹ میں سنی گئی ہیں اور پریس کانفرنسوں میں کھل کر کہی گئی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، اس مضمون میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو پہلے نہ کہی جا چکی ہو—اور اکثر اس سے کہیں زیادہ سخت انداز میں۔
ہٹائے جانے سے توجہ میں اضافہ
مگر جونہی یہ مضمون ایکسپریس نیوز کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، منظرنامہ بدل گیا۔ اگرچہ اس کا پرنٹ ایڈیشن پہلے ہی شائع ہو چکا تھا اور واپس نہیں لیا جا سکتا تھا، مگر آن لائن سے ہٹانے کے عمل نے ایک معمول کی سیاسی تحریر کو شدید تجسس کا موضوع بنا دیا۔ فوراً سوالات اٹھنے لگے کہ اسے کیوں ہٹایا گیا، کس نے اعتراض کیا، اور آخر اس میں ایسا کیا تھا جو ناقابلِ قبول سمجھا گیا۔ نتیجتاً وہ لوگ بھی، جو عام حالات میں اس مضمون کو نظرانداز کر دیتے، اسے تلاش کرنے لگے۔ اسکرین شاٹس شیئر ہوئے، نقول نجی طور پر گردش کرنے لگیں، اور سوشل میڈیا پر بحث نے زور پکڑ لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ردِعمل نے غالباً اپنے مقصد کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کیا۔ مضمون کی رسائی محدود کرنے کے بجائے اس نے اسے مزید پھیلا دیا۔ اثر کو کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا دیا۔ ایک بار تجسس بیدار ہو جائے تو اسے روکنا ممکن نہیں رہتا۔
گمنامی سے یکایک شہرت تک
اس واقعے کا ایک اور دلچسپ پہلو خود زُورین نظامانی کی اچانک نمایاں حیثیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایکسپریس نیوز کے باقاعدہ لکھاری ہیں، مگر اس واقعے سے قبل بہت کم قارئین ان کے کام سے واقف تھے یا ان کی سابقہ تحریریں یاد کر سکتے تھے۔ اب سوالات اٹھنے لگے کہ وہ کون ہیں، ماضی میں کن موضوعات پر لکھتے رہے ہیں، اور کب سے اس اشاعت سے وابستہ ہیں۔ ان کا نام کسی غیر معمولی دلیل یا اشتعال انگیز مؤقف کے باعث نہیں، بلکہ مضمون کی عدم دستیابی کی وجہ سے منظرِ عام پر آیا۔ یوں گمنامی راتوں رات شہرت میں بدل گئی۔
سنسرشپ اور تجسس کے تاریخی اسباق
یہ رویہ نیا نہیں۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں دباؤ اور پابندی نے تجسس کو ختم کرنے کے بجائے اور بھڑکایا۔ سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جب اس ناول پر کئی مسلم ممالک میں پابندی عائد کی گئی تو اس کے بارے میں تجسس میں زبردست اضافہ ہوا۔ وہ لوگ بھی اسے پڑھنے کے خواہاں ہو گئے جو شاید کبھی اس کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔ پابندی نے اسے عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا اور اس کے قارئین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پاکستان میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں صحافت پر سخت سنسرشپ نافذ تھی۔ اخبارات میں پورے پورے پیراگراف سیاہی سے کالا کر دیے جاتے تھے۔ اس عمل نے قارئین کو مایوس کرنے کے بجائے ان کا اشتیاق اور بڑھا دیا۔ لوگ گھنٹوں یہ سوچتے رہتے کہ ان سیاہ خانوں کے پیچھے کیا لکھا تھا، اور اکثر حقیقت سے کہیں زیادہ دھماکہ خیز مواد کا تصور کر لیتے تھے۔ یوں وہ کالے دھبے خود کسی بھی شائع شدہ لفظ سے زیادہ طاقتور بن جاتے تھے۔
جدید مثالیں
عصرِ حاضر کی عالمی سیاست میں بھی یہی نفسیات کارفرما ہے۔ ریڈیکٹ (سنسر شدہ) دستاویزات، خصوصاً ایپسٹین فائلز جیسے ہائی پروفائل معاملات میں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ جو چیز چھپائی جاتی ہے وہ کھلی معلومات سے کہیں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ لاکھوں صفحات جاری کیے جائیں، مگر سب سے زیادہ دلچسپی دھندلے ناموں، سنسر شدہ پیراگرافوں اور چھپائی گئی تصاویر میں ہی لی جاتی ہے۔
ایک قابلِ اجتناب تنازع
اس وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو “It Is Over” پر ہونے والا شور غیر متناسب اور بآسانی قابلِ اجتناب تھا۔ یہ دراصل “کچھ بھی نہیں” پر بہت زیادہ ردِعمل کی مثال ہے۔ عجلت میں کیے گئے اقدام نے غیر ارادی طور پر خود اداروں کو تنازع کے مرکز میں لا کھڑا کیا، خاص طور پر اس لیے کہ مضمون کو ادارہ جاتی طرزِ عمل پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔ مضمون کو ہٹانے کے عمل نے بے چینی اور دفاعی رویّے کا تاثر دیا—اور اسی بات کو نمایاں کر دیا جو شاید ویسے ہی نظرانداز ہو جاتی۔
اگر مضمون کو آن لائن رہنے دیا جاتا تو غالب امکان یہی تھا کہ اسے مختصراً پڑھا جاتا اور دیگر روزانہ شائع ہونے والے کالموں کی طرح بھلا دیا جاتا۔ مگر ردِعمل نے یقینی بنا دیا کہ اسے زیادہ لوگ پڑھیں، زیادہ شدت سے اس پر بات کریں، اور کہیں زیادہ عرصے تک یاد رکھیں۔
حد سے بڑھے ردِعمل کا دائمی سبق
یہ واقعہ ایک سادہ مگر دائمی سبق دیتا ہے: فوری معلومات اور ڈیجیٹل محفوظات کے دور میں دباؤ اور پابندی شاذونادر ہی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ بیانیے کو قابو میں رکھنے کی کوششیں اکثر الٹا اثر دکھاتی ہیں، اور معمولی تحریروں کو مزاحمت یا تجسس کی علامت بنا دیتی ہیں۔ خاموشی میں تجسس پنپتا ہے، پابندی میں بڑھتا ہے، اور عدم موجودگی میں پھلتا پھولتا ہے۔
آخرکار، یہ کہانی نہ کسی خطرناک مضمون کی تھی اور نہ کسی انتہا پسند لکھاری کی۔ یہ حد سے بڑھے ردِعمل، غلط اندازے، اور انسانی تجسس کی ازلی طاقت کی داستان تھی۔ تجسس نے بلی کو نہیں مارا۔ اس نے صرف یہ ظاہر کر دیا کہ اسے قابو میں کرنے کی کوشش کتنی لاحاصل ہے۔(بشکریہ جرنلزم پاکستان)۔۔
