بیرونِ ملک مقیم صحافیوں کے خلاف غیر حاضری میں سزاؤں میں اضافہ ۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

پاکستان کی حکومت نے بیرونِ ملک مقیم صحافیوں کے خلاف غیر حاضری میں سزاؤں اور گرفتاری کے وارنٹس کے استعمال میں شدت پیدا کر دی ہے، جو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دور میں تنقیدی رپورٹنگ اور تبصروں کے خلاف بڑھتی ہوئی کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) کے مطابق ، 2025 کے اواخر سے حکام نے بیرونِ ملک موجود صحافیوں کو سیاسی بدامنی کی کوریج اور مبینہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے سلسلے میں نشانہ بنایا ہے۔

جنوری کے اوائل میں، بیرونِ ملک مقیم چار پاکستانی صحافیوں اور مبصرین کو ایک ہی دن میں مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہروں کی رپورٹنگ پر سزا سنائی گئی۔ یہ مظاہرے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد ہوئے تھے۔ حکومت کا الزام ہے کہ خان اور ان کے حامیوں نے ان مظاہروں کو ہوا دی، جن کے دوران مظاہرین نے فوجی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔ حکام نے دسمبر میں ایک اور جلا وطن صحافی کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا، جس پر پاکستان کی فوج کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام ہے۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے یکم دسمبر کو سوشل میڈیا صارفین، یوٹیوبرز اور صحافیوں کے خلاف “جعلی خبروں” کے پھیلاؤ پر وسیع کریک ڈاؤن کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ بیرونِ ملک موجود افراد کو بھی واپس لا کر مقدمات کا سامنا کرایا جائے گا۔

سی پی جے کے مطابق، 2 جنوری کو اسلام آباد کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چار صحافیوں کو غیر حاضری میں دو، دو عمر قید، اس کے علاوہ 35 سال قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنائی۔ عدالت نے صحافیوں پر ریاستی اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانے اور نفرت پھیلانے کے الزامات کے تحت پاکستان پینل کوڈ اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت فردِ جرم عائد کی۔

سزا پانے والے صحافیوں میں صابر شاکر شامل ہیں، جو اے آر وائی نیوز کے سابق اینکر اور برطانیہ میں مقیم یوٹیوبر ہیں، جن کے 28 لاکھ سبسکرائبرز ہیں؛ شاہین سہبائی، امریکا میں مقیم فری لانس صحافی اور دی نیوز انٹرنیشنل کے سابق ایڈیٹر؛ وجاہت سعید خان، امریکا میں مقیم صحافی جن کا یوٹیوب چینل 5 لاکھ 44 ہزار سبسکرائبرز رکھتا ہے؛ اور معید پیرزادہ، برطانوی نژاد پاکستانی صحافی اور امریکا میں قائم گلوبل ولیج اسپیس کے ایڈیٹر۔ چھ جنوری کو ایک  مشترکہ بیان میں صحافیوں اور دیگر ملزمان نے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ تو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا، نہ سمن موصول ہوئے، نہ سماعتوں کی اطلاع دی گئی اور نہ ہی شواہد تک رسائی دی گئی۔ سی پی جے کے مطابق، اس نوعیت کی سزائیں پاکستان کے آئین اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدےکے تحت اس کی ذمہ داریوں سے متصادم ہیں۔شاہین صہبائی نے کہا کہ انہیں فیصلے کا علم میڈیا رپورٹس کے ذریعے ہوا اور انہوں نے اسے دباؤ ڈالنے اور خوفزدہ کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیا۔ ان کا پاکستانی پاسپورٹ اور سرکاری دستاویزات منسوخ کر دی گئیں۔ صابر شاکر کے مطابق، ان اور ان کی اہلیہ کی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے، اور انہیں فوج سے منسلک افراد کی جانب سے یہ پیشکشیں موصول ہوئیں کہ اگر وہ تنقیدی رپورٹنگ بند کر دیں تو الزامات ختم کر دیے جائیں گے۔تحقیقی نیوز ویب سائٹ فیکٹ فوکس کے شریک بانی احمد نورانی کو دسمبر کے اوائل میں فوج کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا پھیلانے کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا۔ نورانی نے کہا کہ انہیں اس کیس کا علم نہیں تھا اور انہیں پاکستان سے قریبی تعلقات رکھنے والے ممالک کا سفر کرنے میں گرفتاری کے خدشے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔نورانی کے خاندان کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں مارچ 2025 میں ان کے دو بھائیوں کا اغوا، بینک اکاؤنٹس منجمد ہونا اور ملازمتوں سے محرومی شامل ہیں۔ نورانی کے خلاف متعدد اضافی مقدمات بظاہر ان کی اس رپورٹنگ سے جڑے ہیں جن میں فوج کی جانب سے سول اداروں میں مبینہ مداخلت اور سینئر افسران کی کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر سید خرم علی نے سی پی جے کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں