کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ 2025 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 کے دوران پاکستانی میڈیا پر مکمل کنٹرول اور سینسر شپ کے باوجود صحافیوں کو قتل ، گرفتاریوں ، غداری کے مقدمات ، جبری آف ائیر، بینک اکائونٹس کی بندش ، ای سی ایل میں نام اور اداروں کو اشتہارات کی بندش جیسے مسائل کا سامنا رہا ۔پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں چھپنے اور نشر ہونے والے مواد کی یکسانیت نے آزاد صحافت پر کئی سوال کھڑے کر دئیے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان 2025کی رپورٹر سان فرنٹیئر (RSF) کی عالمی میڈیا ریٹنگ میں 6 درجات کی تنزلی کے ساتھ 158 ویں نمبر پر آچکا ہے جو 2024 میں 152 ویں نمبر پر تھا۔ارباب اختیار کی سخت گیر پالیسیوں، پیکا ایکٹ کے جبر ، کنٹرولڈ ایڈورٹزمنٹ پالیسیوں،پریس ایڈوائسز، سنسر شپ کی وجہ سے بہت سے اخبارات بند ہوچکے، بڑے میڈیا گروپس کے نیوز رومز خالی ہوچکے ہیں، اخبارات اپنے ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ان سب کے باوجود صحافیوں کو قتل، گرفتاریوں، غداری کے مقدمات، جبری آف ایئر، شناختی کارڈ کی رجسٹریشن کی منسوخی، بینک اکائونٹس کی بندش، ای سی ایل میں نام شامل کیے جانے اور اشتہارات کی بندش جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ حکومت کی تنگ نظری کی وجہ سے متعدد اینکر پرسنز کو ان کے پروگرامز سے آف ایئر کردیا گیا یا گھر جانے پر مجبور کردیا گیا جن میں کاشف عباسی، حبیب اکرم، پارس جہاں زیب، ثمینہ پاشا، سمیع ابراہیم ، عارف حمید بھٹی، خالد جمیل سمیت کئی ٹی۔ وی اینکرز شامل ہیں۔ ڈان نیوز گروپ کو غیر جانبدارانہ ایڈیٹوریل پالیسی کی پاداش میں پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا اور ریڈیو کے اشتہارات سے ہاتھ دھونا پڑا،اسی طرح جنگ، آواز، وقت گروپ کے اخبارات کو بھی سنگین حکومتی دبائو کی وجہ سے اپنے اداروں میں ڈائون سائزنگ کرنا پڑی ، اس صورت حال کے باعث میڈیا اداروں اور صحافی برادری کی سلامتی، خودمختاری اور پیشہ ورانہ آزادی بری طرح خطرے میں پڑ چکی ہے اور ملک میں ہر طرف قلم کے امینوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ انھیں کسی طرف سے مسیحائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی ۔مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ عدلیہ نے بھی ریاست کے چوتھے ستون کو متزلزل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اب اہل قلم اپنے ساتھ روا بیداد کی روداد کس کو سنائیں، جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے اخبارات کے لیے ” ڈمی ” کا لفظ استعمال کرنا عدلیہ کی جانب سے دیا گیا وہ گھائو ہے جو رہتی دنیا تک نہیں بھرے گا۔ان نامساعد حالات نے میڈیا اداروں اور صحافی برادری کی سلامتی، خودمختاری اور پیشہ ورانہ آزادی کے حوالے سے شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پانچ صحافی قتل کیے گئے، چھ صحافیوں کو مقدمات، گرفتاری یا سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تین صحافیوں کو ہراسانی اور دبائو کا نشانہ بنایا گیا، دو پریس کانفرنسیں روکی گئیں، دو میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے، دو تشدد کے سنگین واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ دو بڑی ڈیجیٹل پابندیاں اور ایک متنازع قانون سازی نے آزادیِ اظہار کو شدید متاثر کیا۔ اس کے علاوہ متعدد صحافیوں کو قومی شناختی کارڈ کی بندش، بینک اکائونٹس منجمد کیے جانے اور پیکا (PECA) کے تحت کارروائیوں جیسے غیر معمولی اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔سی پی این ای کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں صحافیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا، آزاد رپورٹنگ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ریاستی اداروں کی جانب سے نگرانی اور دبائو میں اضافہ واضح طور پر محسوس کیا گیا۔کمیٹی کی جانب سے بلوچستان میں آزادی صحافت کی حالیہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سی پی این ای کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں غیر اعلانیہ سنسرشپ، پریس ایڈوائسز کے ذریعے خبروں کے بلیک آئوٹ، اور عدم تعمیل کی صورت میں اخبارات کو سرکاری اشتہارات سے محروم کیے جانے کی پالیسی نے پرنٹ میڈیا کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث کئی اخبارات بندش کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔سی پی این ای کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا اطلاعات کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے، تاہم مسلسل دبائو، سنسرشپ اور انٹرنیٹ کی طویل بندش نے اطلاعات کی آزاد ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جمہوری اقدار کے تحفظ اور معلومات تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔سی پی این ای نے رپورٹ میں شامل تمام واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آزاد، محفوظ اور غیر جانبدار صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔سی پی این ای کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کے بغیر جمہوری ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف میڈیا بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔رپورٹ میں سی پی این ای نے حکومت سے صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور غیر قانونی کارروائیوں کا فوری خاتمہ کرنے،آزادیِ اظہار کو محدود کرنے والی قانون سازی پر نظرثانی کرنے،صحافیوں اور میڈیا اداروں کو محفوظ اور آزادانہ ماحول فراہم کرنے،بلوچستان سمیت ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے حق آئین اور عالمی جمہوری قوانین کے عین مطابق بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ میڈیا، پریس اور صحافت کے حق کی آزادی کے تحفظ، صحافیوں کے حقوق کے دفاع اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
