معروف لوک اور صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے حال ہی میں سنو نیوز کے پوڈکاسٹ میں اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور مالی کامیابیوں پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی محنت سے شہرت اور مالی خوشحالی حاصل کی اور اب وہ ایک پروگرام کا کیا معاوضہ لیتی ہیں۔اس انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کے کیریئر کی پہلی کمائی 27 ہزار روپے تھی، جس سے انہوں نے اپنی والدہ کیلئے گھر کاسامان مثلاً فریج ، ٹی وی اور بیڈ خریدا تھا اور یہ ان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ صنم ماروی نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کی ماں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا اور انہیں بچپن میں بھوک کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔اس سے پہلے بھی 2017 میں ان کا انٹرویو شائع ہوچکا ہے۔ ڈان امیجز میں صنم ماروی نے بتایا کہ ان کا بچپن بھی آسان نہیں تھا۔ گھر میں پانچ بہن بھائی تھے اور روزانہ صرف پانچ روٹیاں بنتیں، جن میں سب نے حصہ لینا پڑتا۔ اکثر وہ خود اور انکے والد اور والدہ کو بھوکے ہی سونا پڑتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ والدہ کہتیں تم بڑے ہو بھوک برداشت کر سکتے ہو چھوٹوں کو کھانا کھانے دو۔صنم کا تعلق سندھ کے ایک چھوٹے گاؤں سے تھا اور شادی کے بعد وہ سردھوڑہ کے ایک دیہات قندیوال منتقل ہوئیں۔ وہاں انہیں گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ایک دن ان کی ساس نے ٹی وی پر پروگرام ‘ورثہ ہیریٹیج’ دیکھ رہی تھیں، جس میں علی عباس اور سارا رضا پرفارم کر رہے تھے، یہ آواز ماروی کو کچن سے ہال میں کھینچ لائی۔ اس پروگرام نے صنم کے اندر موسیقی کی محبت کو جگا دیا۔ اور انہوں نے اپنے شوہر سے اس خواہش کا اظہار کرنے کا عزم کرلیا۔
