bol news ke jabri bartaraf mulazimeen ki bahali ka mutaalba

بول کا دفتر معاشی مقتل میں تبدیل۔۔

بول نیوزکے حالات میں تاحال کوئی بہتری نہیں آسکی۔۔ادارے پر معاشی بحران کی ایسی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں کہ تنخواہوں کی صورت میں برسنے والے بادل اب صرف وعدوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں، لیکن برستے نہیں۔ پپو کے مطابق بول نیوز کے ملازمین کی ستمبر کی تنخواہیں تاحال اُس ’’نہ آنے والی بارش‘‘ کی مانند ہیں جس کے انتظار میں کھیت جلتے ہیں اور کسان دعائیں  کرتے  رہ جاتے ہیں۔پپو کا کہنا ہے کہ بول انتظامیہ نے اگست کی تنخواہیں  دیتے وقت بڑے فخر سے یہ بشارت سنائی تھی کہ ہم اسی ماہ ستمبر کی تنخواہیں بھی ادا کر دیں گے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ بول انتظامیہ نے  ملازمین کو دی جانے والی پک اینڈ ڈراپ سروس کے پر کاٹ کر یہ سہولت صرف خواتین تک محدود کی، اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خود وہ پرندے بھی پرواز چھوڑ چکے ہیں۔ٹرانسپورٹر سروس پرووائیڈر کے کئی ماہ کے بقایا جات ادا نہ ہونے پر، ٹھیکیدار نے تنگ آ کر احتجاجاً سروس معطل کر دی۔ نتیجتاً خواتین اسٹاف نے دفتر آنے سے صاف انکار کر دیا۔یوں خواتین نے گھر بیٹھ کر ورک فرام ہوم کو اختیار کر لیا، اور دفتر میں موجود مرد ملازمین پر کام کا ایسا پہاڑ توڑ دیا گیا کہ اب وہاں ورک انڈر پریشر کی نئی داستانیں لکھی جا رہی ہیں۔ پپو کے مطابق چند انتظامی ہمنوا جنہیں عرفِ عام میں جوتے پالشئے کہا جا سکتا ہے،اُنھی تھکے ہارے ملازمین سے کام کروا کر خود لاکھوں کی تنخواہیں بٹورنے اور مزے سے چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف ہیں۔ گویا کام محنت کش کرتا ہے، داد نکمے لیتے ہیں۔انتظامیہ کے قریبی ذرائع نے پپو کو بتایا ہے کہ بول کے مالکان اب اس ڈوبتے ہوئے ’’ٹائٹینک‘‘ کی کمان کسی نئے ناخدا کے ہاتھ میں دینے کے مشن پر ہیں۔ خود دفتر کے بجائے خریداروں کی تلاش میں سرگرداں پھرتے ہیں۔بول نیوز کے دفتر کی کیفیت اس وقت کچھ یوں ہے کہ کام کرنے والے ملازمین کی زندگی اور ذہنی صحت مذاق بن چکی ہے۔تنخواہیں خواب،انتظامیہ افسانہ،اور امید محض لطیفہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں