بول نیوز میں تنخواہوں کا مسئلہ اب کسی غلط فہمی، تاخیر یا مالی دقت کا نتیجہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک باقاعدہ پالیسی، ایک سوچے سمجھے نظام اور ایک ایسی روش بن چکا ہے جسے حالیہ حالات کے پیش نظر صرف اور صرف اقربا پروری کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تنخواہ محنت کا معاوضہ نہیں بلکہ قربت کا صلہ ہے، اور صلہ بھی صرف اُنہی کو ملتا ہے جو طاقت کے دسترخوان کے قریب بیٹھنے کا ہنر جانتے ہیں۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ بول نیوز انتظامیہ نے اسلام آباد اور لاہور کے چند مخصوص اینکرز کو، بمعہ ان کی ٹیموں کے، گزشتہ دنوں دو ماہ کی تنخواہیں یک مشت ادا کر دی گئیں۔ کوئی بحران، کوئی کمی، کوئی مجبوری آڑے نہ آئی۔ یوں لگا جیسے خزانہ خاص ایسے ہی کسی مواقع کے لیے بند رکھا جاتا ہے۔پپو کے مطابق ان لوگوں کو ستمبر اور اکتوبر کی تنخواہیں ادا کردی گئی ہیں۔۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان ٹیموں کے اراکین کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے یعنی یہ وہ رقم ہے جسے دیگر ملازمین محض خواب میں دیکھ سکتے ہیں، اور خواب بھی قسطوں میں جبکہ دوسری جانب کراچی، لاہور اور دیگر اسٹیشنز کے سینکڑوں ملازمین ایسے ہیں جن کی تنخواہیں تاحال وعدوں اور بہانوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ دسمبر ختم ہونے کو ہے، مگر نومبر کی تنخواہ کا کچھ پتہ نہیں۔یہ وہ ملازمین ہیں جو روز اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر قوم کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہیں، مگر خود اپنے گھروں میں فاقہ، قرض اور ذلت کے حالات جھیل رہے ہیں۔ بچوں کی فیس، گھروں کا کرایہ، دواؤں کے اخراجات۔۔۔ سب سوال بن چکے ہیں، اور جواب صرف ایک ہے: “انتظار کریں”۔ یہ سب کچھ اُس ادارے میں ہو رہا ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے بڑا اور نمبر ون نیوز چینل کہلواتے نہیں تھکتا۔
