aik sabiq bol mulazim ki sachai

بول نیوزمیں بحران در بحران،ملازمین کیلئے حالات مزید سنگین۔۔

بول نیوز شدید مالی بحران کا شکارہوگیا ہے جس کے بعد  ملازمین کے لیے حالات مزید سنگین ہوگئے ہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ بول نیوز میں مالی بحران کے اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ادارے نے ڈاؤن سائزنگ کے نام پر ملازمین کی جبری برطرفیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس سے اسٹاف میں بے چینی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مارننگ شو کے ناقص ریٹنگز کے پیش نظر پروگرام بند کیے جانے کی تیاری جاری ہے۔ اسی تناظر میں پروگرامنگ ڈیپاڑمنٹ کے ہیڈ نے شو کے پروڈیوسر کو مارننگ شو سے ہٹا کر ڈیپارٹمنٹ کے ایک محفوظ شعبے میں منتقل کر دیا ، کیونکہ شو بند ہونے کی صورت میں نوکری بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔پپو کے مطابق بول نیوز نے حال ہی میں ایک انگریزی نیوز شو کا آغاز کیا تھا، جو چند ہفتے بھی نہ چل سکا اور پھر بند کر دیا گیا۔ شو کے رائٹر کو جولائی کی تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے، جو کہ میڈیا انڈسٹری میں پیشہ ورانہ بداعتمادی کی واضح مثال ہے۔ادارے کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کا دائرہ کار اب دفتر کے معمولات تک پھیل چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پیر 4 اگست سے اسٹاف کے لیے چائے فراہم کرنا بھی بند کر دی جائے گی، جو ملازمین کے لیے ایک اور مایوس کن خبر ہے۔مزید یہ کہ بول نیوز کی مرکزی بلڈنگ سے “بول” کا نام ہٹا دینے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ادارے کی شناخت اور مستقبل دونوں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بول نیوز کی کینٹین میں ملازمین  کا تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے نام پر استحصال کیا جا رہا ہے اور ملازمین کو 22-25 ہزار تنخواہوں پر ٹرخایا جا رہا ہے ۔۔جو حکومت کے طے شدہ اجرت سے نصف ہے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں