بول میں نیوز روم کے علاوہ سب کی سیلری آگئی۔۔سلیب کے بعد بول نیوز میں سیلریز دینے کا عجیب و غریب نظام بنادیا گیا ہے، مبینہ طور پر تعلقات کی بنیاد پر تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں، ادارے نے ٹیکنیکل اسٹاف، ڈیجیٹل، پروگرامنگ کے چند افراد کو دسمبر کی تنخواہ ادا کردی، چند دن پہلے پروگرامنگ کے افراد کو تنخواہ دی گئی تھی، ہفتے کے روز ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل اسٹاف کو تنخواہیں ادا کردی گئیں، جس میں ڈھائی تین لاکھ تنخواہوں والے بھی شامل ہیں، جبکہ رپورٹرز، نیوز ڈیسک، اسائنمنٹ، ٹیکر ڈیسک، پی سی آر، نیوز روم کے این ایل ایز، پروڈکشن ٹیم میں چند دن پہلے ساٹھ ہزار روپے تک تنخواہ دی گئی تھی، باقی افراد ابھی تک سیلری کےلیے پریشان ہیں، تنخواہ کب آئے گی، اس بارے میں اسٹاف نے نیوز روم لیڈرز سے کئی بار معلوم کیا لیکن ہر بار یہی جواب ملتا ہے کہ ’کوشش کر رہے ہیں۔‘ بول نیوز انتظامیہ کا پورا ’فوکس‘ صرف ورکرز کو پریشان کرنے پر ہے۔ اگر کوئی آٹھ گھنٹے سے ایک سیکڈ بھی لیٹ ہوجائے تو پورٹل پر اس کی ہاف ڈے آجاتی ہے، ملازمین کو آٹھ گھنٹے سے چار پانچ یا دس منٹ کم ہونے پر بھی شوکاز نوٹسز جاری کئے جارہےہیں۔دوسری جانب بول میں حاضری کا سسٹم بائیو میٹرک مشین سے تھا یعنی لوگ نیچے لگی مشین پر انگوٹھا لگاکر اوپر اپنے ورک اسٹیشن پر چلے جاتے تو ان کی حاضری لگ جاتی تھی ۔ گزشتہ روز انتظامیہ نے بغیر بتائے خاموشی سسٹم میں تبدیلی کردی، اب ہر ورکر کو نیچے لگی مشین پر انگوٹھا لگانے کے بعد اوپر جاکر کمپیوٹر کھول کر پورٹل سے بھی ’ٹائم ان‘ کرنا ہوگا۔ اور واپس نکلتے وقت پہلے کمپیوٹر سے اور پھر نیچے لگی مشین سے آوٹ کرنا ہوگا، ہفتے کے روز پر اسرار طریقے سے ہونے والی تبدیلی کا ورکرز کو معلوم نہیں تھا، لہذا شام کی شفٹ کے تمام افراد وقت پورا ہونے کے بعد نیچے لگی مشین پر انگوٹھا لگا کر چلے گئے، جس پر حاضری سسٹم نے سب کو ’غیرحاضر‘ قرار دے دیا۔
