بلوچستان کے صحافیوں کے اہم مسئلے کی نشاندہی۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

بلوچستان کے ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کا عزت مآب جناب محترم صدر مملکت صاحب، وزیراعظم صاحب، وفاقی وزیر اطلاعات صاحب، وفاقی وزیر صحت صاحب اور ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، پی آئی او صاحب کے نام کھلاخط اور خصوصی اپیل۔۔

بلوچستان کے تمام اضلاع و تحصیل سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ ورکنگ جرنلسٹ کو جلد از جلد وزیراعظم جرنلسٹ و میڈیا ورکرز ہیلتھ انشورنس پروگرام میں شامل کرکے ہمیں ہیلتھ کارڈ فراہم کئیے جائیں۔

بلوچستان کے تمام اضلاع و تحصیل سطح پر صحافیوں کا ایک نہایت اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے ۔۔۔

،عزت مآب محترم جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڈ صاحب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال صاحب، وفاقی سیکرٹری اطلاعات امبرین جان صاحبہ اور پی آئی او صاحب سے پُرزور خصوصی اپیل کی ہے کہ بلوچستان کے پسماندہ مختلف تمام اضلاع و تحصیل کی سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ تمام صحافیوں کو فوری طور پر وزیراعظم جرنلسٹ و میڈیا ورکرز ہیلتھ انشورنس پروگرام میں ہمیں شامل کرکے ہمیں جلد از جلد ہیلتھ کارڈ جاری کئیے جائیں تاکہ وہ اور اُن کے اہل خانہ صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رہ سیکیں۔

> صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے۔ صحافی وہ لوگ ہیں جو مظلوموں کی آواز بنتے ہیں، کرپشن اور ناانصافی کے خلاف قلمی محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہی صحافی اپنی صحت کے لیے بھی ریاستی دروازوں پر دربدر دستک دے رہے ہیں۔

بلوچستان کے تمام صحافیوں کے بنیادی اہم و جائز مطالبات درج ذیل ہیں

  1. بلوچستان کے تمام اضلاع و تحصیل سطح پر تمام مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافیوں و میڈیا ورکرز کو وزیراعظم جرنلسٹ و میڈیا ورکرز ہیلتھ کارڈ جلد از جلد جاری کئے جائیں۔
  2. ہیلتھ کارڈ کی سہولت میں صحافیوں کے اہل خانہ کو بھی شامل کیا جائے۔
  3. سرکاری و نجی ہسپتالوں میں صحافیوں کے لیے رعایتی یا فری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
  4. ہر ضلع میں “صحافی ویلفیئر فنڈ” قائم کیا جائے تاکہ ایمرجنسی میں مالی و طبی مدد دی جا سکے۔
  5. میڈیا ورکرز کے لیے سالانہ فری میڈیکل کیمپ، ذہنی صحت پروگرام، اور سوشل سیکیورٹی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیل سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافی تمام وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی ہم اپنی صحافتی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیل سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافیوں کا نہایت ہی ایک غریب اور ایک پسماندہ صوبے سے تعلق ہے جہاں کے صحافی اکثر بغیر کسی تنخواہ، مراعات یا سہولتوں کے باوجود صرف جذبے کے تحت اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں کئی سینئر صحافی صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں اور خاموشی سے منظر سے ہٹ چکے ہیں

بلوچستان کے تمام صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے حکومت وقت اور مرکزی سطح پر میڈیا ورکرز و صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی مرکزی مختلف صحافتی تنظیم، پی یو ایف جے ، ینگ جرنلسٹ سوسائٹی انٹرنیشنل اور ایپنک کے مرکزی چئیرمین محمد صدیق انظر اور دیگر عہدیداران کو یاد دلایا ہے۔

> آزادیٔ صحافت کے دعوے کرنے والوں اور صحافیوں کے ہم آواز بننے والے اور مرکز میں آواز بلند کرنے والے اور صحافیوں کے بنیادی مسائل حل کیلئے مرکزی سطح پر مختلف دیگر صحافتی تنظیموں کو بھی اب عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صحافیوں کے حقیقی مسائل کا ادراک رکھتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی صحافت کی قدر کرتی ہے تو پھر صحافیوں کو بنیادی سہولتیں دینا اس کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

موجودہ حکومت یا مرکزی سطح پر صحافت سے وابستہ مختلف تنظیم جس میں صحافیوں کیلئے اہم کردار ادا کرنے والے پی ایپنک ،پی یو ایف جے، اور دیگر مختلف صحافتی تنظیموں کے صرف بیانات کافی نہیں اب بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیل سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ تمام صحافیوں کیلئے عملی اقدامات کرنے کی وقت کی ضرورت ہے۔

آخر میں بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیل کے سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافیوں نے پُرزور خصوصی اپیل کی گئی ہے۔

> ہماری بالخصوص وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت وقت سے خصوصی گزارش ہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع و تحصیل سطح پر مختلف چینلز اور اخبارات سے وابستہ تمام صحافیوں کو صحت، تعلیم، اور تحفظ کے وہی حقوق دیے جائیں جو ایک عام شہری کو حاصل ہیں۔ اگر صحافی صحتمند ہوں گے تو وہ مزید بہتر انداز میں ملک و قوم کی خدمت کر سکیں گے۔یہ قدم نہ صرف ان مختلف مرکزی صحافتی تنطیم عزت و وقار افزائی ہوگا بلکہ ریاست کے اپنے فرائض کی ادائیگی کا وعدہ وفا بھی پایا تکمیل ھوگا۔(سینئر جرنلسٹ عبدالحمید مگسی ،لوکل چئیرمین ایپنک ڈسٹرکٹ حب، بلوچستان)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں