تحریر: کوثر جبیں۔
نیوز روم پہلی بار خاموش تھا۔ نہ فون بج رہے تھے، نہ ایڈیٹر کی آوازیں فوٹیج کے لیے گونج رہیں تھیں۔ بس ایک ڈھیٹ سی پی یو کی گَھرگَھر کی آواز تھی جو بغیر مرمت کے بھی چلتا جا رہا تھا۔
ٹیپو اپنی اسکرین پر آدھی لکھی لائن کو دیکھ رہا تھا:
“حکومت نے ریلیف دینے کا وعدہ۔۔۔”
وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔ ریلیف۔
اس کی ماں کی دوا ختم ہونے کو تھی، اور کئی ماہ سے بچوں کی فیس اور گھر کا کرایہ واجب تھا۔
چھ مہینوں سے وہ ہر ٹریجڈی رپورٹ کر رہے تھے، سوائے اپنے۔
ٹیپو چونک کر خیالوں سے باہر آیا۔ آج کل وہ ہر وقت گہری سوچوں میں گم رہتا تھا۔ اس کی ہنسی کب آہوں میں بدل گئی، کسی کو خبر نہیں ہوئی۔آنکھوں میں بھی اب تھکن بسی ہوئی تھی۔ نوکری کے باوجود قرض لے کر گزارا کرنا اور تنخواہ کے لیے بار بار ہاتھ پھیلانا، اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا۔
پھر اچانک، اس خاموش نیوز روم میں ایک عجیب سی آواز گونجی ۔ ایک کھوکھلی ہنسی کی۔
سب کے ہاتھ رک گئے۔
ٹیپو ہنس رہا تھا — زور سے، بے قابو ہو کر۔پھر وہی ہنسی رونے میں بدل گئی۔
کچھ لوگ خوف زدہ ہو گئے۔، کچھ کو ترس آیا۔اور چند کی آنکھوں میں تمسخر در آیا۔مگر ٹیپو اب ہر چیز سے بیگانہ ہوچکا تھا۔وہ ہنس رہا تھا، جیسے پھر سے سانس لینے کی کوشش کر رہا ہو۔ اور پھر، اسی ہنسی کے بیچ، وہ گر گیا۔
کرسیاں کھسکیں، آوازیں بلند ہوئیں، کسی نے اس کا نام پکارا۔ مگر اس کی آنکھیں ساکت تھیں اور ہنسی کی بازگشت اب بھی کمرے میں گونج رہی تھی۔ بے ہوش ٹیپو کو اٹھا کر اسپتال لے جارہے تھے کہ ایک کیمرے کی لائٹ اچانک جل اٹھی۔ریکارڈنگ چل گئی۔ لینس کے عکس میں سب نے خود کو دیکھا۔اُسی کی طرح تھکا ہوا، زندگی سے ہارا ہوا۔
تین دن بعد سیلری آگئی اور ساتھ ہی ٹیپوکی موت کی خبر بھی۔
دماغ کی رگ پھٹ گئی تھی۔(کوثر جبیں)۔۔
