شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی (ایس آر بی سی) کے تحت اے ٹی وی کے 280 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی نوکریاں ختم کیے جانے کا فیصلہ سامنے آتے ہی میڈیا انڈسٹری اور صحافتی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے۔ عدالت کی نگرانی میں لیکویڈیشن کے نام پر یہ اجتماعی برطرفی کی جا رہی ہے، لیکن میڈیا ورکرز، تنظیموں اور ادارے کے اندر موجود متعدد ذمہ داران نے اسے وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور محکمہ اطلاعات کی طاقتور بیوروکریسی کی دانستہ اور منظم سازش قرار دیا ہے، جس کے تحت ایک قومی میڈیا ادارے کو مسلسل مالی بھوک، انتظامی رکاوٹوں اور فنڈز کے مصنوعی بحران کے ذریعے بند کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا۔ ملازمین کئی ماہ تک وزارت اطلاعات کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، لیکن نہ کسی حکومتی عہدیدار نے ان کی فریاد سنی، نہ ادارے کو بچانے کے لیے کوئی پلان بنایا گیا اور نہ ان سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی پر پڑنے والے اثرات کا کوئی خیال کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ فنڈز کی روک تھام، ضروری سامان و تنخواہوں کی تاخیر، اور بحالی کی فائلوں کو دبا دینا اس سازش کے مرکزی نکات تھے جن کا واضح مقصد ایس آر بی سی اور اے ٹی وی کو زبردستی آپریشنل ناکامی تک پہنچانا تھا، تاکہ آخر کار عدالت کے ذریعے اس کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے۔ آفیشل لیکویڈیٹر کے جاری کردہ حکم کے مطابق 30 نومبر 2025 کو کاروباری دن کے اختتام پر تمام مستقل، کنٹریکٹ، ڈیلی ویج، انجینئرنگ، نیوز، کیمرہ، ایڈمن، کنسلٹنٹس، ڈیپیوٹیشن پر آئے افسران اور عارضی عملے سمیت ہر فرد کو فارغ کر دیا جائے گا۔ ملازمین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ورک اسٹیٹس رپورٹ، زیر التواء کام، پاس ورڈز، سرکاری ریکارڈ، فائلیں، ڈیوائسز، میڈیا اسٹوریج، اثاثے اور دیگر مواد فوری طور پر متعلقہ افسران کے حوالے کریں، جبکہ دوسری جانب ملازمین کے جائز مالی واجبات، گریچوئٹی، لیو انکیشمنٹ، تنخواہوں کے فرق اور دیگر کلیمز کو فنڈز کی دستیابی سے مشروط کر دیا گیا ہے، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ملازمین نے اس فیصلے کو “ریاستی سطح پر میڈیا دشمنی” اور “معاشی قتل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اطلاعات کے پاس درجنوں مواقع موجود تھے جن کے ذریعے ادارے کی بحالی ممکن ہو سکتی تھی، لیکن طاقتور بیوروکریسی کے مخصوص حلقوں نے ایسی کوئی کوشش نہ ہونے دی۔ صحافتی تنظیموں نے بھی اس اقدام کو ایک منظم سازش، میڈیا کو کمزور کرنے کی کوشش اور 280 خاندانوں پر ظلم قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاج اور قانونی کاروائی کریں گی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی معاشی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسا حکومتی رویہ ہے جس کا مقصد قومی ادارے کو دانستہ کمزور کر کے بند کرنا اور میڈیا ورکرز کو بے یارو مددگار چھوڑ دینا ہے، جبکہ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ برطرفی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کی جائے، ادارے کی بحالی کے لیے ہنگامی پلان بنایا جائے اور تمام واجبات بلا تاخیر ادا کیے جائیں، کیونکہ یہ صرف ایک ادارے کی بندش نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ میڈیا کی آواز کو دبانے کی خطرناک کوشش ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
