kisi ke baray mein jhooti khabrein na phelaya karen

ایک مزاحیہ جملے سے سہگل خاندان کا داماد بن گیا، محمود اسلم۔۔۔

سینئر اداکار محمود اسلم  نے ابھی تک شادی کے پیغامات آنے کا  انکشاف کیا ہے۔حال ہی میں محمود اسلم نے جیو نیوز کے مزاحیہ پروگرام ‘ہنسنا منع ہے’ میں شرکت کی جہاں انہوں نے میزبان تابش ہاشمی سے دلچسپ گفتگو کی۔میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ کو ابھی بھی شادی کے پیغامات آتے ہیں؟جس پر اداکار نے انکشاف کیا کہ مجھے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر شادی کے پیغامات آتے ہیں۔انہوں نے ایک قصہ سناتے ہوئے کہا کہ میری ایک خاتون فین لندن سے مجھے کال کرتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھ سے شادی کرلو، اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میرے پاس بہت پیسہ ہے۔محمود اسلم نے کہا کہ وہ خاتون میرے 80 کی دہائی کے ڈرامے ‘دلاور’ کی فین تھی، میں نے ان سے کہا کہ آپ نے بہت پرانا ڈرامہ دیکھا ہوا ہے، اس وقت میں جوان تھا اب بوڑھا ہوگیا ہوں، لیکن خاتون نے ماننے سے انکار کردیا۔اداکار نے مزید کہا کہ وہ مجھے فون کال کرکے صرف یہ ہی کہتی تھی کہ آپ کیسے ہیں، ٹھیک ہیں، پھر فون بند کردیتی تھی، پھر میں نے اپنی بیوی سے بات کروائی اور پھر آخری کال پر خاتون نے مجھے کہا کہ اگر آپ مجھے دنیا پر نہیں ملے تو کوئی بات نہیں، میں اللہ سے آپ کو دوسرے جہاں میں مانگ لوں گی۔ محمود اسلم نے اپنی محبت کی شادی سے متعلق دلچسپ تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مزاحیہ جملے کی وجہ سے حقیقت میں سہگل خاندان کا داماد بن گیا۔اہوں نے کہا کہ میں اس وقت اوپن ایئر تھیٹر میں اداکاری کرتا تھا اور جوانی میں ہیرو کا کردار ادا کر رہا تھا، ایک موقع پر معروف کامیڈین امان اللّٰہ نے مذاق میں مجھ سے کہا کہ اتنا غرور کیوں ہے جیسے تم سہگل خاندان کے داماد ہو اور بعد میں حقیقی زندگی میں ایسا ہی ہو گیا۔محمود اسلم نے بتایا کہ گریجویشن کے بعد میں فارغ تھا اور ایک دوست نے مجھے نوکری دلانے کا وعدہ کیا، اسی دوران میری ملاقات سیاستدان زاہد حامد سے ہوئی جنہوں نے مجھے سیلز مین کی ملازمت کرنے سے روکا اور ایک نئے آئس کریم پارلر میں بطور مینیجر ملازمت دے دی۔اداکار نے بتایا کہ میری اہلیہ جنہیں میں نہیں جانتا تھا اکثر اس آئس کریم پارلر آیا کرتی تھیں اور مذاق میں کہتی تھیں کہ وہ آئس کریم کے لیے نہیں بلکہ مینیجر کو دیکھنے آتی ہیں، ان کے ساتھ آنے والی ان کی سہیلیاں بھی مجھے دیکھنے کے لیے آتی تھیں کیونکہ اس وقت  میرا ایک ڈرامہ کافی مقبول ہو چکا تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں