ایک افغان صحافی اور ان کے اہلِ خانہ کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اُس وقت رہا کر دیا گیا جب سوشل میڈیا پر اُن کی مسلسل حراست کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ نے مداخلت کی۔رپورٹس کے مطابق افغان صحافی عبدالاحد اپنی اہلیہ سپنا اور کمسن بچوں کے ساتھ جیل میں موجود تھے، حالانکہ عدالت نے 11 مارچ کو ہی ان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا تھا۔ اس کے باوجود خاندان جیل میں زیرِ حراست رہا۔ انہیں رواں ماہ کے آغاز میں فارنرز ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔یہ معاملہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب ڈان کے سینئر رپورٹر مبارک زیب خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس حراست کے بارے میں پوسٹ کرتے ہوئے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے مداخلت کی اپیل کی۔حکام نے اس خاندان کو 4 مارچ کو اسلام آباد کے سیکٹر بی-17 سے حراست میں لیا تھا اور بعد میں انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ مبارک زیب خان کے مطابق عبدالاحد اور ان کی اہلیہ دونوں کے پاس 2027 تک کے لیے کارآمد پاکستانی ویزے موجود تھے، جس کے باعث عدالت کے حکم کے باوجود ان کی حراست پر سوالات اٹھائے گئے۔سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیرِ بحث آنے کے چند ہی گھنٹوں بعد وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مداخلت کرتے ہوئے صحافی اور ان کے اہلِ خانہ کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔سینئر صحافی حامد میر نے بعد ازاں ایکس پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ داخلہ نے متعلقہ حکام کو خاندان کو رہا کرنے کی ہدایت کی کیونکہ ان کے ویزے درست تھے۔حامد میر نے وزیرِ داخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “انتہائی تیز رفتار کارروائی” قرار دیا، جبکہ دیگر صحافیوں نے اس واقعے کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ سوشل میڈیا پر عوامی توجہ کس طرح حساس قانونی یا امیگریشن معاملات میں انتظامی ردِعمل کو تیز کر سکتی ہے۔
