سینئر صحافی،کالم نگار اور تجزیہ کار عمار مسعود کہتے ہیں کہ۔۔الیکٹرانک میڈیا نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ کوئی بریکنگ نیوز ’تائید خاص‘ کے بغیر نہیں چلتی۔ کوئی ٹِکر ایسا نہیں ہوتا جو برہمی کا سبب بنے۔ کوئی اینکر فرطِ جذبات میں ریڈ لائن پار نہیں کرتا۔اب رہا مسئلہ چند یو ٹیوبرز یا باہر بیٹھے صحافیوں کا، تو یہ معاملہ بھی اب قریباً نمٹ چکا ہے۔ وی نیوز میں اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ اندرون خانہ ’پیکا‘ قانون نافذ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔ بیرون ملک یو ٹیوبرز کو بیرونی ایجنٹ قرار دیا جا چکا ہے۔ امریکا سے لے کر عوام تک سب راہ راست پر آ چکے ہیں لیکن مسئلہ نظام کی طاقت کا نہیں بلکہ نظام کے ذریعے حاصل کیے گئے نتائج کا ہے۔اہل اقتدار کو سوچنا چاہیے کہ وہ تارِیخ میں خود کو ہائی برڈ نظام کے متوالے کہلانا چاہیں گے یا پھر ’پاکستان کے محسن‘ کے نام سے پکارا جانا چاہیں گے۔
