اقبال جھکڑ صاحب کا “ان باکس چہرہ”

تحریر: امجد عثمانی۔۔

جناب اقبال جھکڑ بزرگ اخبار نویس ہیں اور چونکہ بزرگ ہیں تو ہمارے بڑوں کی تربیت ہے کہ بزرگوں کا ہر صورت احترام کرنا ہے چاہے وہ” کیسے” بھی ہوں۔۔۔آج کل نام لکھے بغیر سنئیر صحافی رانا خالد  ان کے نشانے پر ہیں اور ان کا جرم اس سال ایک محفل میلاد میں عمرے کے دو ٹکٹ ہیں۔۔۔۔جو انہوں نے لاہور پریس کلب اور اپنے گروپ یونائیٹڈ گروپ کے اشتراک سے ایک پروگرام کے دوران دیے جس کی قرعہ اندازی میں سیکرٹری لاہور پریس کلب جناب زاہد عابد۔۔فنانس سیکرٹری جناب سالک نواز اور ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد بھی تھے۔۔۔۔

جناب اقبال جھکڑ کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں موصوف نے آسمانی گینگ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے میرے نام سے جڑے لفظ عثمانی کا ٹھٹھہ اڑایا اور مجھے بھی حسب معمول گردن زدنی قرار دے دیا کہ کچھ دن پہلے جب کلب میں ایک پلگ چور کی نگرانی میں سکرپٹڈ طوفان بدتمیزی اٹھا تو میں بھی کلب میں موجود تھا۔۔۔میرے خیال میں وہ صدر لاہور پریس کلب کی قیادت میں ایک وفد کے دورہ شکرگڑھ پر برہم ہیں جس کا ذکر بھی تحریر میں موجود ہے،یہ دورہ شکرگڑھ میں ہمارے قابل دوستوں نے ارینج کیا اور خوب کیا۔۔۔۔ان کے قلم سے میری کردار کشی میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ موصوف گزشتہ دو انتخابات میں میرے خلاف اپنی پوری قوت سے ہر کارڈ کھیل چکے۔۔۔۔لیکن وہ بے مراد ہی ٹھہرے کہ عزت صرف اللہ کریم کے پاس ہے ۔۔۔۔۔ان سے ادب سے گزارش ہے میرا نام امجد عثمانی ہے۔۔۔میں پچھلے سال نائب صدر تھا۔۔۔میں نے اپنا نامہ اعمال ایک پوسٹ میں پیش کردیا تھا۔۔۔۔اب جناب کی باری ہے کہ جناب نے جس کو ووٹ دیا اس کا حساب دیں۔۔۔۔اور ہاں اصل حساب تو 2016کے تین عمرہ ٹکٹوں کا باقی ہے ۔۔۔۔سب ایڈیٹر فرخ ضمیر۔۔۔۔محی الدین فوٹو گرافر اور کلب کے سابق ویٹر سرفراز کو ملیے اور ضمیر کو جگائیے اور لکھیے۔۔۔۔۔ رہی بات رانا خالد قمر کی تو ان سے 2008 میں روزنامہ آج کل سے تعلق ہے۔۔۔انہوں نے گزشتہ دو الیکشن میں جناب ارشد انصاری۔۔۔زاہد عابد اور میرا ڈنکے کی چوٹ ساتھ دیا۔۔۔۔ان میں بھی خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن خامیاں کس میں نہیں؟؟اور یہ بھی کہ تعلق خامیوں خوبیوں ساتھ ہی نبھائے جاتے ہیں۔۔۔۔یہ بھی ہمارے بڑوں کی نصحیت ہے۔۔۔۔ہاں میں خود بھی ایک گنہگار انسان ہوں۔۔۔لیکن اچھے لوگوں کی صحبت نے مجھے “بہکنے” اور “جھومنے” سے بچائے رکھا۔۔۔۔بات کرنے کی یہ ہے کہ اقبال جھکڑ صاحب واٹس ایپ گروپوں میں تو میری کردار کشی کرتے ہیں لیکن میرے ذاتی واٹس ایپ کے” ان باکس”میں میری واہ واہ کرتے ہیں۔۔۔۔سکرین شارٹس ملاحظہ فرمایے اور ایک سنئیر کے “دو چہرے” ملاحظہ فرمائیے۔۔۔۔لیکن ٹھہریے ایسے سنئیر قابل اعتبار اور قابل تقلید نہیں۔۔۔کبھی رول ماڈل بنانا ہو تو جناب عظیم قریشی ۔۔۔جناب بخت گیر چودھری اور جناب سرفراز سید حیات ہیں۔۔۔۔جناب راجہ اورنگزیب۔۔۔عزیز مظہر صاحب ۔۔خالد چودھری اور راجہ جلیل حسن اختر صاحب کے نقوش قدم موجود ہیں!!!!

جھکڑ صاحب میرے واٹس ایپ میں سرفراز سید صاحب والے پروگرام کے حوالے سے میسج  لکھتے ہیں

محترم۔۔۔۔سرفراز سید صاحب کی سالگرہ تقریب پر آپ کی تحریر بلا شبہ شاہکار تھی۔۔۔تاخیر سے صحیح مگر شکر ہے پڑھ لی۔۔۔سلامت رہیں۔۔۔اقبال جھکڑ

دورہ شکرگڑھ بارے لکھتے ہیں۔۔

دورہ شکرگڑھ کی روداد حسن تحریر کا مرقع۔۔۔۔چنتخب شگفتہ اصطلاح۔۔۔۔سلامت رہیں اور ریگولر قارئین کو ریگولر تحریری آکسیجن سے نوازتے رہیں۔اقبال جھکڑ۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں