اظہاررائے کی آزادی پر حملے جاری، پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ جاری۔۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف جرائم سے استثنا کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2025 کے دوران پاکستان میں صحافیوں اور میڈیاپروفیشنلز پر 137 حملے ریکارڈ کیے گئے۔یہ رپورٹ اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا کی سلامتی کی ایک سنگین تصویر پیش کرتی ہے، اور بتاتی ہے کہ آئینی ضمانتوں کے باوجود اظہارِ رائے کی آزادی پر حملے جاری ہیں۔پی پی ایف نے زور دیا ہے کہ وہ محض علامتی وعدوں سے آگے بڑھے اور صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لیے حقیقی اقدامات کرے۔ نہ صرف ملکی قوانین کے تحت بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بھی۔تنظیم نے 35 جسمانی حملوں، رپورٹنگ کے دوران 2 زخمی ہونے کے واقعات، 5 گرفتاریوں، 2 اغوا، اور 4 میڈیا اداروں پر حملوں کو ریکارڈ کیا۔ قانونی ہراسانی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی، جس میں 8 گرفتاریاں اور 30 مقدمات صحافیوں کے خلاف درج کیے گئے، جن میں سے 22 متنازعہ پیکاایکٹ کے تحت تھے۔ حکام نے مزید 23 قانونی کارروائیاں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ذریعے کیں۔صحافیوں کو 7 براہِ راست دھمکیوں، 3 قانونی کارروائی کی دھمکیوں، اور 7 ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں اکثر ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا یا سیاسی بیانیے کے ذریعے شدت دی گئی۔ دو صحافیوں کے نام “نو فلائی لسٹ” میں شامل کیے گئے۔انٹرنیٹ کی بندش اور پابندیاں بھی جاری رہیں۔ 6 مرتبہ موبائل ڈیٹا معطل کیا گیا، ایک پیمرا ہدایت نامہ جاری کیا گیا، اور ایک عدالتی حکم کے ذریعے 27 یوٹیوب چینلز بند کیے گئے۔رپورٹ میں تشدد کے واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جیسے اگست میں فیصل آباد میں سیلاب کی رپورٹنگ کے دوران جیو نیوز کے رپورٹر عرفان اللہ اور کیمرہ مین علی ارسلان پر حملہ۔ کوئٹہ، بدین اور اسلام آباد میں پریس کلبز پر چھاپے بھی مارے گئے، جنہیں پی پی ایف نے پریس کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔پی پی ایف نے اس سال 8 صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کیں۔ ان میں سے 6 واقعات کا صحافیوں کے پیشے سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا، جب کہ عبد اللطیف بلوچ اور امتیاز میر کے مقدمات ابھی تک غیر واضح ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان 2008 سے اب تک ہر سال کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(CPJ) کے عالمی استثنا انڈیکس میں شامل رہا ہے۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ مجرموں کو سزا دینے میں ناکامی ایک مستقل مسئلہ ہے۔رپورٹ میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل دھمکیوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جن میں سینئر صحافیوں اسماء شیرازی اور منیزے جہانگیر کو آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔ اہم قانونی پیش رفت میں صحافی خالد جمیل کی گرفتاری شامل ہے جنہیں اگست میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حراست میں لیا، تاہم عدالت نے ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے پر رہا کر دیا۔ ایک اور مقدمے میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو 2024 کے دہشت گردی اور منشیات کے الزامات کے تحت فردِ جرم کا سامنا ہے۔PPF نے ایک سرکاری اشتہار پر بھی تنقید کی، جس میں رپورٹرز اور این جی اوز کو ممکنہ دشمن قرار دیا گیا تھا، اور کہا کہ اس طرح کا بیانیہ میڈیا پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ ادارے نے صحافیوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے قانونی و ریگولیٹری ہتھکنڈوں کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔پی پی ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ “پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021کو مکمل طور پر نافذ کرے، صوبائی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کو وسعت دے، اور موجودہ قوانین پر حقیقی عمل درآمد کو یقینی بنائے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کا آئین اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور ریاست بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے تحفظ کی پابند ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں