کولمبیا یونیورسٹی کے گلوبل فریڈم آف ایکسپریشن پلیٹ فارم پر شائع ہونے والا ایک نیا انٹرویو پاکستانی صحافی جویریہ صدیق کی جاری قانونی اور عوامی جدوجہد کا جائزہ لیتا ہے، جس کا مقصد ان کے شوہر، معروف صحافی ارشد شریف، کے قتل پر جوابدہی کا حصول ہے۔ اس میں صدیق کی پاکستان اور کینیا میں متوازی قانونی کارروائیاں آگے بڑھانے کی کوششوں، نیز ان ذاتی اور پیشہ ورانہ اثرات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے جن کا سامنا انہیں، ان کے بقول، آواز اٹھانے کے بعد کرنا پڑا۔ ارشد شریف اکتوبر 2022 میں جلاوطنی کے دوران کینیا میں گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے تھے۔
ارشد شریف نے 2022 میں پاکستان چھوڑا تھا، جب ان کے خلاف بغاوت سمیت متعدد فوجداری مقدمات قائم کیے گئے اور طاقتور اداروں پر ٹیلی وژن پر تنقید کے بعد انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں۔ پہلے دبئی اور پھر کینیا منتقل ہونے کے بعد، وہ ایک سڑک کنارے پولیس چیک پوسٹ پر گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ کینیا کے حکام نے ابتدا میں اس واقعے کو شناخت میں غلطی قرار دیا تھا۔جویریہ صدیق نے بتایا کہ قتل کے تین سال سے زائد عرصے بعد بھی کسی فرد کو مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ کینیا میں ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ارشد شریف کی موت حادثہ نہیں بلکہ قتل ہے اور مزید تحقیقات کا حکم دیا۔ انٹرویو کے مطابق یہ مقدمہ اب سپریم کورٹ آف کینیا میں زیرِ سماعت ہے، تاہم صدیق کا کہنا ہے کہ پیش رفت سست رہی ہے۔پاکستان میں، جویریہ صدیق نے ارشد شریف کی روانگی سے قبل موصول ہونے والی دھمکیوں اور بیرونِ ملک ان کی موت کے حالات سے متعلق درخواستیں دائر کیں۔ انہوں نے اس عمل کو طویل اور پابندیوں سے بھرپور قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں بارہا عدالت میں براہِ راست بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور انہیں متاثرہ فریق کے بجائے مشتبہ شخص کے طور پر دیکھا گیا۔تین فروری 2026 کو پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف کے قتل سے متعلق مقدمہ نمٹا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کینیا اور پاکستان کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کے پیشِ نظر مزید عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔جویریہ صدیق اس فیصلے سے شدید غم اور مایوسی کا شکار ہیں۔۔اپنے انٹرویو میں جویریہ صدیق نے اپنے شوہر کی جلاوطنی اور موت کو پاکستان میں صحافیوں پر دباؤ کے ایک وسیع تر رجحان سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کا ٹی وی پروگرام بند کر دیا گیا اور ملک چھوڑنے سے قبل ان کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں انہوں نے تنقیدی صحافت کو خاموش کرانے کی کوششیں قرار دیا۔انہوں نے موجودہ میڈیا ماحول پر بھی بات کی، اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو صحافیوں اور کارکنوں کے لیے ایک اہم تشویش قرار دیا۔ صدیق کے مطابق آن لائن مواد اور غلط معلومات سے متعلق اس قانون کی دفعات پر حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، کیونکہ یہ ریاستی اختیارات میں اضافہ اور خود ساختہ سنسرشپ کے خطرات بڑھاتی ہیں۔
انٹرویو میں جویریہ صدیق کے ان دعوؤں کو بھی درج کیا گیا ہے کہ ان کی وکالت کے باعث انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 2025 کے اواخر اور 2026 کے اوائل میں نامعلوم افراد کے ان کے گھر آنے کے واقعات اور آن لائن بدنامی کی مہمات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی شکایات باقاعدہ طور پر درج نہیں کیں، جس سے ان کے عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا۔یہ مقدمہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ صحافیوں کے غیر حل شدہ قتل کس طرح قانونی غیر یقینی صورتِ حال اور پاکستان میں میڈیا پر ضابطہ جاتی دباؤ سے جڑ جاتے ہیں۔ نیوز رومز کے لیے یہ اُن خطرات کو اجاگر کرتا ہے جن کا سامنا بیرونِ ملک جانے والے صحافیوں کو ہوتا ہے، اور سرحد پار جوابدہی کے نظام کی حدود کو بھی سامنے لاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سائبر قوانین اور عدالتی عمل کس طرح صحافیوں کی حساس تحقیقات کو آگے بڑھانے کی آمادگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
