تحریر: امجد عثمانی۔۔
پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ( تعلقات عامہ)غلام صغیر شاہد کوعہدے سے ہٹا دیا گیا۔نوٹیفیکشن کے مطابق غلام صغیر شاہد کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف آرٹ اینڈ کلچر تعینات کردیا گیا۔۔۔سیکرٹری اطلاعات و ثقافت سید طاہر رضا ہمدانی کو ڈی جی پی آر پنجاب کا اضافی چارج دیدیا گیا۔۔۔۔۔
یہ تو خبر ہے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر گونج رہی ہے ۔۔۔امر واقعہ یہ ہےکہ جناب غلام صغیر شاہد صاحب بطور ڈی جی پی آر تعیناتی کے دوران سکندر اعظم بنے رہے اور انہوں نے لاہور کے صحافیوں کو فتح کرنے میں شب و روز بتادیے۔۔۔میں نے لاہور پریس کلب میں پہلی مرتبہ سنئیر صحافیوں کو کسی ڈی جی پی آر کیخلاف گفتگو کرتے دیکھا جیسے دو سال پہلے پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر متنازع ٹھہرے ۔۔۔کبھی جناب آغا اسلم اور جناب شعیب بن عزیز ایسے صحافی دوست لوگ پنجاب کی وزارت اطلاعات میں ہوا کرتے تھے اور آج بھی ادب و احترام سے یاد کیے جاتے ہیں۔۔۔۔صغیر شاہد نے ڈی جی پی آر کارڈ کارڈ کا کارڈ خوب کھیلا اورمن مانے اصول گھڑ کر صحافیوں کی تذلیل کی۔۔انہوں نے نا صرف نوجوان صحافیوں کے کارڈ روک لیے بلکہ پچاس پچاس سال صحافت میں گزارنے والے صحافیوں کو ڈی جی پی آر کارڈ جاری کرنے سے انکار کردیا۔۔۔حالاں کہ اس سے معتبر گواہی کیا ہو سکتی کہ کسی بندے نے چالیس پچاس سال صحافت کے سوا کوئی کام کیا ہی نہیں۔۔۔۔اور اس کا ثبوت اس کا ایک کے ایک بعد ایک سال کا ڈی جی پی آر کارڈ ہے۔۔۔۔پھر بھی ان لوگوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔۔۔۔۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے اس کارڈ پر سوائے ریلوے سفر کے کوئی سہولت بھی نہیں۔۔سوال یہ ہے کہ اگر لاہور پریس کلب کے سنئیر کونسل ممبر اور لائف ممبر بھی ڈی جی پی آر کے مستحق نہیں تو پھر کون ہے؟؟؟؟میرے تو خیال میں لاہور پریس کلب کے کونسل ممبر کو کسی اضافی شرط کے بغیر ہی ڈی جی پی آر کارڈ کا اہل قرار دینا چاہیے کہ اگر حکومت پلاٹ اور انڈومںٹ فنڈ کونسل ممبرشپ کے معیار پر دے سکتی ہے ڈی جی پی آر کارڈ کیوں نہیں؟ ؟؟ میری تجویز ہے کہ اب جبکہ صحافی دشمن ڈی جی پی آر چلے گئے تو لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری کو اس نکتے پر پنجاب کی میڈیا فرینڈلی وزیر اطلاعات محترمہ عظمی بخاری سے بات کرنی چاہیے۔۔۔۔بات نہیں اسے انشور کرانا چاہیئے تاکہ پھر صغیرتماشا کبھی نہ لگے۔ (امجد عثمانی)۔۔
