اخبار کی رجسٹریشن پندرہ روز میں کرنے کا حکم۔۔۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے روزنامہ ’’خبروالے‘‘(حیدرآباد) کی رجسٹریشن کی تجدید مسترد کرنے کے پریس رجسٹرار کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اخبار کی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ آئندہ 15روز کے اندر جاری کیا جائے۔یہ فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے سول متفرق اپیل نمبر 61/2025 میں محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔ اپیل گزار بی بی صفینہ، جو روزنامہ ’’خبروالے‘‘ کی پبلشر اور چیف ایڈیٹر ہیں، نے پریس رجسٹرار آفس کے 29 اپریل 2025 کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت ان کے اخبار کی رجسٹریشن کی تجدید اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی تھی کہ بینک اسٹیٹمنٹ سے اخبار کے لیے مالی وسائل، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور اشاعت کے معیار سے متعلق تسلی بخش شواہد سامنے نہیں آتے۔عدالت کے سامنے اپیل گزار کے وکیل ملک محمد گلفام اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پریس، نیوزپیپر، نیوز ایجنسی اینڈ بک رجسٹریشن آرڈیننس 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد 2009 میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو رجسٹریشن کی تجدید کے لیے مالی حیثیت، تنخواہوں کی ادائیگی یا اشاعت کے معیار کو جانچنے کا اختیار پریس رجسٹرار کو دیتی ہو۔ لہٰذا یہ حکم قانون کے منافی اور اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔دوسری جانب وفاق کی نمائندگی کرنے والے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور پریس رجسٹرار آفس کے خصوصی معاون نے مؤقف اختیار کیا کہ اخبار مالی طور پر مستحکم نہیں اور اس کا معیار بھی مطلوبہ سطح پر پورا نہیں اترتا، اس لیے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کی گئی۔عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اپیل گزار کے پاس ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ جاری کردہ ریگولیرٹی سرٹیفکیٹس موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ روزنامہ ’’خبروالے‘‘ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ آرڈیننس 2002 اور قواعد 2009 میں اشاعت کے معیار یا مالی وسائل کی جانچ کے لیے کوئی واضح قانونی معیار یا طریقہ کار مقرر نہیں کیا گیا، اس لیے پریس رجسٹرار کو اس بنیاد پر رجسٹریشن کی تجدید روکنے کا اختیار حاصل نہیں عدالت نے یہ بھی آبزرو کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق شکایات کی جانچ متعلقہ اداروں، بالخصوص آئی ٹی این ای، کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، نہ کہ پریس رجسٹرار کے۔ اس لیے اس بنیاد پر بھی رجسٹریشن کی تجدید سے انکار قانوناً درست نہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جب تک قانون اور قواعد میں واضح معیار اور طریقہ کار طے نہ کر دیا جائے، کسی انتظامی افسر کو اشاعت کے معیار یا مالی حالت کی بنیاد پر رجسٹریشن کے معاملات میں صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچنے کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد میں واضح معیار متعین کرے۔ان تمام وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے پریس رجسٹرار کا متنازع حکم کالعدم قرار دیا اور ہدایت کی کہ روزنامہ ’’خبروالے‘‘ کی رجسٹریشن کی تجدید کا سرٹیفکیٹ15 روز کے اندر جاری کیا جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں