تحریر: اقبال جکھڑ۔۔
کل لاہور پریس کلب میں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ دو ایسے صاحبانِ حرف، جو خود کو “آسمانی” گینگ کہتے ہیں، اچانک زمین پر اتر آئے۔ ان کے ہاتھ میں دعائیں نہیں، لسٹیں تھیں — سپانسرز کی لسٹیں، ٹکٹوں کے وعدے، شکر گڑھ اور بہاولپور سے لاہور تک کی “کمیوٹیشن فیس” کے حسابات۔
کلب کے احاطے میں ایک باوقار خاتون صحافی، جو برسوں سے اپنے قلم سے سچ لکھتی آرہی ہیں، اچانک کھڑی ہوئیں۔
انہوں نے خاموشی توڑی، اور وہ بات کہہ دی جو اکثر لوگ دل میں رکھتے ہیں لیکن لبوں پر نہیں لا پاتے۔
“یہ آسمانی گینگ عمرے کے نام پر فراڈ کر رہا ہے، پریس کلب کے نام پر پیسے اکٹھے کر رہا ہے، اور سپانسرز سے ‘نیکی’ کے بدلے ‘نوٹ’ وصول کر رہا ہے۔یہ جملے کلب کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئے — اور آسمانی گینگ کے دو رکن جو چائے کے کپ کے ساتھ اپنی “پالیسی بیان” تیار کر رہے تھے، اچانک دفاعی پوزیشن میں آ گئے۔
ان کا مؤقف بڑا دلچسپ تھا۔
کہنے لگے: “ہم سیاست کر رہے ہیں، ہم الیکشن کے قریب ٹکٹ دیں گے، سب کو عمرہ کرائیں گے…”
لیکن حقیقت یہ تھی ٹکٹ بھی آٹھ ماہ پہلے ہی “لیٹ” ہو چکے تھے۔
بس اب بیانیہ باقی تھا — وہی خواب جو دکھانے والے بھی جانتے ہیں کہ تعبیر کبھی نہیں ملے گی۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ آسمانی گینگ نے پریس کلب کے نام پر مختلف سپانسرز سے لاکھوں روپے کے فنڈز وصول کیے۔
کسی نے “روٹیاں” اسپانسر کیں، کسی نے بہاولپور اور شکر گڑھ سے لاہور آنے جانے کا “خدمت فیس” ادا کی، اور کسی نے عمرے کی “کال” پر رقم دے کر ثواب کا گمان کر لیا۔
لیکن ثواب وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں نیت بدل جاتی ہے — اور یہاں تو نیت پوری کہانی کی جڑ تھی۔
میں اکثر سوچتا ہوں،
ہماری صحافت کب “مشعلِ راہ” سے “دھوپ کا سایہ” بن گئی؟
کب ہم نے حرف کی حرمت کو سفری الاؤنس اور سپانسر شپ سے بدل لیا؟
اور کب ہم نے اپنے نام کے ساتھ “پروفیشنل” کے بجائے “پروجیکٹ” لکھنا شروع کر دیا؟
پریس کلب، جو کبھی سچائی کا گڑھ ہوا کرتا تھا، آج طنز، فراڈ اور خودنمائی کا میدان بنتا جا رہا ہے۔
وہاں آج جو ہوا، وہ ایک واقعہ نہیں — ایک استعارہ تھا۔
آسمانی گینگ دراصل چند افراد نہیں، وہ سوچ ہے جو ہر اس شخص کے اندر زندہ ہے جو نیکی کے نام پر منافع چاہتا ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنے اپنے “کلب” کے سامنے کھڑے ہو کر یہ پوچھیں —
کیا ہم واقعی آسمان کے قریب ہیں؟
یا زمین پر رہ کر آسمان کا بہانہ بنا رہے ہیں؟(اقبال جکھڑ)۔۔
