آزاد کشمیر میں صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے کوئی مؤثر قانون موجود نہیں۔ وفاقی سطح پر 2021 کا صحافیوں کے تحفظ کا قانون تو ہے، لیکن ریاست میں اس پر عمل درآمد کی کوئی صورت نہیں۔وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید شاہ کے مطابق، صحافی نجی اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کے پاس ان کی تنخواہوں یا کام کی تفصیلات کا ریکارڈ نہیں۔ جب تحریری شکایت آتی ہے تو کارروائی کی جاتی ہے، زبانی شکایات پر نہیں۔آزاد کشمیر پریس فاؤنڈیشن کو صحافیوں کی فلاح کے لیے مؤثر ادارہ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی کارکردگی اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔وی نیوزکے مطابق جب معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا، تو کہا گیا کہ ’آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ موجود نہیں، اس لیے معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔انہوں نے کہا اکثر اوقات صحافی ہمارے پاس آتے ہیں کہ ہمارا ادارہ ہمیں تنخواہ نہیں دیتا ہم انہیں باقاعدہ یہ کہتے ہیں ایسے اداروں کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دو جو آپکو کام کا معاوضہ فراہم نہیں کر سکتا یا تحریری طور پر شکایت درج کروائیں تاکہ ہم کوئ کاروائی کر سکیں۔تاہم آج تک کوئی بھی صحافی تحریری شکایت لیکر ہمارے پاس نہیں آیا اور زبانی کلامی شکایت کی کوئ اہمیت نہیں ہوتی سرکار کے نزدیک اور نا ہی اداروں کو پابند کرنے کا اختیار ہے۔شاہ نے بتایا کہ آزاد کشمیر حکومت نے 11 مارچ 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں تمام ملازمین کے لیے کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی بھی دوسرے ملازمین کی طرح محنت کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے کوئی الگ قانون بنانے کی ضرورت نہیں۔ تمام میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ اس سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق صحافیوں کو بھی کم از کم 37 ہزار روپے تنخواہ دیں۔جب پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ’’آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ موجود نہیں، اس لیے معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔آزاد کشمیر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر آصف نقوی کے مطابق آزاد کشمیر میں 72 رجسٹرڈ اخبارات ہیں، جن میں سے 12–15 صرف اشتہارات کے لیے رجسٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو 10 سے 12 فعال اخبارات لائیں گے جو کام بھی کریں گے۔ آصف نقوی کی مطابق ان کے پاس یہ معلومات نہیں ہے کہ کن اداروں میں کتنے صحافی کام کر رہے ہیں، یا کس کو تنخواہ دی جا رہی ہے اور کتنی۔آصف نقوی نے بتایا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو سالانہ 18 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ تاہم 18 کروڑ روپے کی خطیر رقم کہاں خرچ ہوتی ہے؟ کن میڈیا اداروں کو دی جاتی ہے، اور اس کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہے؟ ’یہ انہوں نے بتانے سے منع کر دیا کہ ہم یہ معلومات نہیں دے سکتے۔‘
