یہ عزیز اللہ کون ہے؟؟؟

تحریر: امجد عثمانی ۔۔۔

کاش صحافی لیڈر بھی یہی سوال اٹھاتے تو لاہور پریس کلب کا شملہ اور اونچا ہو جاتا۔۔!!!!لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ،جسٹس مس عالیہ نیلم نے صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سمیت 6صحافیوں کو نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے جاری نوٹسز پر حکم امتناعی جاری کردیا جبکہ تفتیشی افسر کو 14اکتوبر کو طلب کرلیا۔۔لاہور پریس کلب کی پریس ریلیز کے مطابق ارشد انصاری، مجاہد شیخ ، احمد فراز سمیت 6 صحافیوں نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جبکہ درخواست میں این سی سی آئی اے کو فریق بنایا گیا۔۔وفاقی حکومت کی جانب سے لا افسر رفاقت ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس،جسٹس مس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کئی سوالات بھی اٹھائے۔۔

جسٹس مس عالیہ نیلم نے  استفسار کیا کہ یہ کمپلیننٹ عزیز اللہ کون ہے؟

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ نوٹس کس قانون کے تحت جاری ہوئے۔۔این سی سی آئی اے نے یہ کیا تماشہ لگا یا ہوا ہے؟

 چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے سوال کیا کہ روزانہ یوٹیوبرز مختلف اداروں کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں ۔۔کیا ان کے خلاف بھی یہی ایکشن لیا گیا ؟

انہوں نے پوچھا کہ این سی سی آئی اے کے پاس 50ہزار شکایات ہیں ۔۔کیا تمام شکایات  پر ایسے ہی ایکشن لیا گیا۔۔۔؟؟؟

چیف جسٹس ہائی کورٹ کے تلخ سوالات نے نا صرف شکایت کنندہ بلکہ وفاقی ادارے کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔چیف جسٹس صاحبہ نے درست کہا کہ یہ عزیز اللہ کون ہے؟؟کیا یہ تماشا نہیں کہ ایک “یوٹیوبر پولیس اہلکار کے کہنے پر لاہور پریس کلب کے صدر کیخلاف مضحکہ خیز نوٹس جاری کر دیا جائے۔۔یہ ایسے ہی جیسے کسی راہ جاتے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی درخواست پر آئی جی پنجاب یا سی سی پی او لاہور کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔۔کیا کہتے ہیں ہمارے اداروں کے سربراہ بیچ اس مسئلے کہ ایسی اندھیر نگری کی اجازت دی جا سکتی ہے۔۔؟وی لاگ اور پوڈ کاسٹ تو کئی پولیس افسر بھی کرتے ہیں۔۔چیف جسٹس صاحبہ کا یہ سوال بھی کسی “طمانچے” سے کم نہیں کہ مذکورہ ادارے کے پاس 50ہزار شکایات درج ہیں۔۔کیا باقی شکایات کے باب میں بھی اسی پھرتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ابھی درخواست ابھی مقدمہ۔۔؟؟میرے خیال میں عزیز اللہ خان صاحب ایسے شکایت کنندہ کے بارے یہی ریمارکس سجتے ہیں جو چیف جسٹس صاحبہ نے دیے ہیں۔۔کاش ہمارے صحافی لیڈر بھی وقتی طور پر اپنی لڑائیاں پس پشت ڈال دیتے اور یک زبان ہو کر یہی سوال کرتے تو چیف جسٹس صاحبہ کو یہ ریمارکس نہ دینا پڑتے۔۔جس طرح لاہور کی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے صدر جناب محمد اشفاق کی قیادت میں عہد وفا نبھایا اسی طرح باقی ایسوسی ایشنز بھی دوش بدوش ہوتیں تو اس سے لاہور کی شملہ پہاڑی پر آباد لاہور پریس کلب کا شملہ اور اونچا ہو جاتا کہ یہ مسئلہ ارشد انصاری کا نہیں لاہور پریس کلب کی عزت کا ہے۔۔اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ پی ہو جے اور پی ایف یو جے کے انہدام کے بعد لاہور پریس کلب واحد معتبر ادارہ ہے کہ اسی پلیٹ فارم کے لیےسرکاری گرانٹ مختص ہےجس کے باعث صحافیوں کا ایک جہان سجا ہے۔۔انڈومنٹ فنڈ ہے جس سے صحافیوں کے زخموں پر مرہم رکھی جارہی ہے۔صحافی کالونی کے فیز ون کے بعد فیز ٹو بھی ان پراسیس ہے اور اپنی چھت کے خواب کی تعبیر قریب ہے۔۔صحافیوں کے حقوق کا علم بردار بھی لاہور پریس کلب ہی ہے۔۔مکرر عرض ہے کہ خدانخواستہ لاہور کے صحافیوں کا یہ ادارہ بھی کسی ایرے غیرے نے “پامال” کردیا تو صحافت کے طرم خان بھی خاک چھانتے پھریں گے اور ان کی داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔!(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں