تحریر: امتیاز گلاب بگورو
6 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح 1965 میں پوری قوم نے یکجہتی اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ دن نہ صرف جنگی فتوحات کی یادگار ہے بلکہ پاکستان کے قومی شعور، اتحاد اور دفاعی عزم کی علامت بھی ہے۔اور
1965 کی جنگ: ایک روشن مثال ہمارے پاس موجودہیں
6 ستمبر 1965 کو بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا۔ دشمن نے یہ گمان کیا کہ وہ لاہور پر قبضہ کر کے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ مگر پاکستانی فوج اور عوام نے جس دلیری اور جذبے سے مقابلہ کیا، اس نے بھارت کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ میجر عزیز بھٹی شہید جیسے جانبازوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔
یقیناً 1965 واحد امتحان نہیں تھا۔ 1971 کی جنگ میں بھی ہمارے فوجیوں اور عوام نے بے مثال قربانیاں دیں۔ 1999 کا کارگل محاذ ہو یا دہشت گردی کے خلاف 2000 کی دہائی میں شروع ہونے والے آپریشنز، ہر جگہ پاکستانی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے وطن کی حفاظت کی۔
آپریشن راہِ راست اور راہِ نجات میں دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ تباہ کیے گئے۔
آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد نے ملک میں امن بحال کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
“بنیانِ مرصوص” جیسی حکمتِ عملی نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دفاع صرف اسلحے سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور قربانی سے ممکن ہے۔
یہ قربانیاں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جو اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ اگر میں اس موقع پر اپنے شہداء کے روشن کرداروں کی بات نہ کرو تو زیادتی ہوگی
پاکستان کی عسکری تاریخ میں کئی ایسے جانبازوں کے نام سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
میجر عزیز بھٹی شہید (1965): لاہور کے محاذ پر چھ دن اور چھ رات دشمن کی گولہ باری کا سامنا کرتے رہے۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ اپنی بہادری پر انہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
راشد منہاس شہید (1971): پاک فضائیہ کے جوان پائلٹ جنہوں نے دشمن کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے اپنے طیارے کو زمین سے ٹکرا دیا اور وطن پر جان قربان کر دی۔ وہ سب سے کم عمر نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیں۔
میجر شبیر شریف شہید (1971): انہوں نے دشمن کی کئی چوکیوں پر قبضہ کیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ انہیں بھی نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور گلگت بلتستان کے سپوت حوالدار لالک جان نے( 1999): کارگل کے محاذ پر دشمن کو ناقابلِ یقین نقصان پہنچایا۔ شدید گولہ باری کے باوجود بہادری سے لڑتے رہے اور شہادت کا درجہ پایا۔ ان کے کارنامے پر دشمن افواج نے بھی اعترافِ شجاعت کیا۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید (1971): انہوں نے آخری دم تک دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ نشانِ حیدر ان کی بہادری کا گواہ ہے۔
یہ چند نام پوری فوج اور قوم کے اُن لاکھوں شہداء کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ہر شہید کا خون اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کی بنیاد قربانیوں پر کھڑی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
محترم قارئین کرام اگر میں فوج اور قوم کا رشتہ بیان کرو تو یومِ دفاع کا سب سے بڑا پیغام فوج اور قوم کا ناقابلِ شکست رشتہ ہے۔ ہماری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی ملک کو خطرات لاحق ہوئے، پوری قوم نے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وطن کا دفاع کیا۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔ شہداء کے اہلِ خانہ کو سلام کہ جنہوں نے اپنی آنکھوں کے چراغ وطن کی سلامتی پر قربان کیے۔ ان کی قربانیاں ہی پاکستان کی اصل متاع ہیں۔
محترم قارئین۔۔وطن عزیز کی دفاع کیسے ممکن ہے آج کے دور میں دفاع صرف سرحدوں پر جنگ لڑنے کا نام نہیں رہا۔ جدید زمانے میں دفاع کے کئی رخ ہیں
تعلیمی دفاع: تعلیم یافتہ قوم ہی فکری یلغار اور پروپیگنڈا وار کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
معاشی دفاع: مضبوط معیشت ہی ایک مضبوط دفاع کی ضامن ہوتی ہے۔ قرضوں میں جکڑی قوم دفاعی محاذ پر دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
سماجی دفاع: اتحاد، برداشت اور معاشرتی انصاف وہ ہتھیار ہیں جو اندرونی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہیں۔
یوں یومِ دفاع ہم سب کو یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
ہمارے نوجوانوں پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں بلکہ اپنے کردار، تعلیم اور محنت سے ملک کو دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل کریں۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایمانداری، دیانت اور قربانی کو اپنا شعار بنا لیں تو یہ سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔قارئین کرام
یومِ دفاع پاکستان صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک رہنمائی ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ پاکستان ہمارے آباؤ اجداد کی امانت ہے اور اس کی حفاظت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ شہداء کا خون ہمیں یہ عہد دلاتا ہے کہ یہ وطن ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے، اسے دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔(امتیاز گلاب بگورو)۔۔
