پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی سینئر صحافی لیجنڈ لیڈر نثار عثمانی کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان کی 31 ویں برسی کی تقریب کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں منائی گئی ۔تقریب کی صدارت سینئر صحافی حبیب خان غوری نے کی، جب کہ سینئر صحافی خورشید تنویر، مزدور رہنما منظور رضی، لیاقت ساہی، ناصر منصور،سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، ایپنک کے رہنما ظفر دارا،سینئر صحافی آفتاب سید، سینئر صحافی مظہر عباس،ایوب جان سرہندی،کراچی یونین آف جرنلٹس کے صدر طاہر حسن خان، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور ڈاکٹر توصیف احمد خان نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مقررین نے نثار عثمانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کا کام ملک میں سوالات اٹھانا اور عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کرانا اور مسائل کی درست نشاندہی کرنا ہے۔مقررین نے لیجنڈ لیڈر نثار عثمانی کے ساتھ اپنے گزرے وقت کو بھی یاد کیا اور کئی یادگار واقعات بیان کئے۔سینئر صحافی اور پریس کلب کے سابق صدر حبیب خان غوری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ نثار عثمانی ہمارے آئیڈیل تھے آمرانہ دور میں آزادی اظہار رائے اور جمہوری اقدار کی بحالی کی لڑائی لڑی کبھی بھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان نے کہا کہ صحافت مشکل دور سے گزر رہی ہے نثار عثمانی کی پوری زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، میڈیا اور مزدور تنظیموں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی اور ممبر ایف ای سی مظہر عباس نے کہا کہ پی ایف یو جے کی بنیاد کراچی میں رکھی گئی تھی کے یو جے کی جانب سے نثار عثمانی کی برسی کا انعقاد خوش ائند ہے آج میڈیا کی جو صورتحال ہے وہ ہماری نااتفاقی ہے اتحاد ہی میں طاقت ہے ورنہ صورتحال مزید بدتر ھوتی جائے گی انھوں نے نثار عثمانی کو صحافت کا حسرت موہانی قرار دیا۔ سینئر صحافی خورشید تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں آزادی صحافت،جمہوری اقدار، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے صحافیوں کو اپنا قلم اور اپنا مائیک استعمال کرنا ہے۔ہمیں آزادی صحافت اور انسانی حقوق کیلئے ہر جگہ لڑائی لڑنی چاہیئے۔نثار عثمانی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے قلم کو بہت ایمانداری سے استعمال کیا۔ سینئر صحافی اور ممبر ایف ای سی ایوب جان سرہندی نے اپنے خطاب میں نثار عثمانی کی صحافت اور ان کے کردار کو نئے آنے والے صحافیوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔مزدور رہنما منظور رضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ۔۔ اکتیس سال بعد کے یو جے کی جانب سے نثار عثمانی کی برسی کو منانا خوش آئند ہے، انہوں نے ملکی حالات ، آزادی اظہار رائے اور مزدور تحریکوں پر بھی روشنی ڈالی۔۔ مزدور رہنما لیاقت ساہی نے کہا کہ جس ملک میں آئین کوروند دیا جاتا ہے وہاں پی ایف یو جے کی تحریک کو کیسے کامیاب ہونے دیا جائے گا جس پر لیبر قوانین کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہر دور میں ٹریڈ یونینز، صحافتی تنظیمیں اور سول سوسائٹی نے مشترکہ جدوجہد کی ہے۔اگر مشرف دور میں پانچ نومبر 2007 کو کراچی پریس کلب سے تحریک کا آغاز نہ ہوتا تو وکلا تحریک پورے ملک میں نہ پھیلتی،اس تحریک نے آزادی اظہار رائے کو اجاگر کیا اور آزاد عدلیہ کو سپورٹ کیا۔مزدور رہنما ناصر منصور نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت پر اس سے برا وقت پہلے کبھی نہیں آیا، پی ایف یوجے، کے یوجے اور ٹریڈ یونینوں کو مل کر اپنی لڑائی لڑنی ہوگی، جس طرح صحافیوں کے خلاف پیکا جیسا خطرناک قانون نافذ کیا گیا ہے اسی طرح حکمران سندھ لیبر کوڈ کا نفاذ چاہتے ہیں تاکہ یہاں کنٹریکٹ سسٹم کو قانونی درجہ دیا جاسکے۔ ڈاکٹر جبار خٹک نے نثار عثمانی کے حوالے سے اپنی یادیں حاضرین سے شیئر کیں اور کہا کہ نثارعثمانی نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ہر قسم کے دباؤ میں صحافتی اخلاقیات کو برقرار رکھیں اور دباؤ کا مقابلہ کریں۔سینئر صحافی آفتاب سید نے کہا کہ نثار عثمانی مشکل سے مشکل معاملے کو بہت ہی آسانی سے بیان کردیتے تھے ۔ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ ۔۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافیوں کے حالات کار پر توجہ دی جائے، آج بڑی تعداد میں صحافیوں کو بیروزگار کیا جارہا ہے، ان کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں کی جارہی۔ ایپنک کے رہنما دادا ظفر نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ایپنک کو طاقت بنائیں گے ۔جنرل سیکرٹری کے یوجے سردار لیاقت کشمیری نے کہا کہ اگست میں پی ایف یوجے کی کامیاب ایف ای سی اور خالق دینا ہال میں پی ایف یوجے کی کامیاب پلاٹینیم جوبلی تقریب کا سہرا کے یوجے کے صدر طاہر حسن خان اور سینئرصحافی مظہر عباس کے سر ہے۔ نثار عثمانی ڈے منانا کے یو جے کے لئے بڑا اعزاز ہے تقریب سے امتیاز خان فاران اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پلاٹینیم جوبلی اور ایف ایس سی اجلاس میں نمایاں خدمات انجام دینے والے کے یو جے کے ممبران کو ستائشی اسناد تقسیم کی گئی سینئر تجزیہ نگار اور صحافی رہنما مظہر عباس، سینئر صحافی اور سابق صدرکراچی پریس کلب حبیب خان غوری، پریس کلب کے سابق صدر خورشید تنویراور دیگر مہمانوں نے اسناد تقسیم کیں۔
