تحریر: سید بدرسعید۔۔
پچھلی دہائی میں اخبارات کے زوال کے بعد ٹی وی چینل کا زوال بھی شروع ہوگیا ۔ چند سال سے ڈاؤن سائزن چل رہی تھی، ادارے بیچے جا رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ اب ڈیجیٹل کا دور شروع ہو چکا ہے لیکن اب اچانک ڈیجیٹل کے ساتھ بھی یہی ہونا شروع ہو گیا ہے ۔
پہلے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑے بجٹ کے ساتھ شروع ہونے والا ڈیجیٹل نکتہ نے بڑے پیمانے پر پاکستانی میں صحافی برطرف کر دیے ۔اس ڈیجیٹل کو سینیئر صحافی کامران خان لیڈ کر رہے تھے اور ملک ریاض کی انویسمنٹ بتائی جاتی تھی ۔اس کے ساتھ ہی ایکسپریس نے جاوید چودھری کو طویل سفر کے بعد اچانک نوٹس بھیج دیا ۔ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ڈان جیسے ادارے نے اپنی ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔
یہ سب کیا ہے ؟ کیا یہ خطرے کی علامت ہے ؟
میرے خیال میں یہ خطرہ نہیں ہے ۔ یہ دور ڈیجیٹل کا ہی ہے لیکن ڈیجیٹل اب اپنی مضبوطی کا اعلان کر رہا ہے ۔
ان سب سے ایک غلطی ہوئی
یہاں مالکان نے لیڈ کے لیے انہیں لا کر بٹھایا جن کا اخبار اور ٹی وی چینل میں بڑا نام ہے لیکن وہ ڈیجیٹل کو نہیں سمجھتے تھے ۔ ڈیجیٹل میں محض مشہور ہونا کافی نہیں ہے بلکہ یہاں الگورتھم کی اہمیت ہے
ہمارے ادارے دو انتہاؤں پر گئے
ایک یہ کہ ڈیجیٹل پر ٹی وی اینکر یا میڈیا کے مشہور نام لا کر انہیں ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا ۔ ان میں سے بہت کم چل سکے کیونکہ ٹی وی سکرین اور موبائل سکرین کا مزاج ، انویسٹمنٹ، کانٹنٹ اور سٹائل مختلف ہے ۔ یہ لوگ اس فرق کو نہیں جان سکے
دوسری انتہا یہ تھی کہ بجٹ کم رکھنے کے چکر میں پوری ٹیم ہی انٹرنیز یا نئے لوگوں کی بٹھا دی جنہیں میڈیا ایتھکس کا علم نہیں تھا ،وہ صحافت کے نام پر کچھ اور کرنے لگے ۔ اچھے وائرل کانٹنٹ کی بجائے آسان بے ہودہ کانٹنٹ کو وائرل سمجھا جانے لگا
میں نے گزشتہ ماہ ہی لاہور پریس کلب میں “آرٹیفیشل انٹیلیجنس فار میڈیا ” کی کلاس میں دوران لیکچر کہا تھا کہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے ۔ پہلی بار میڈیا میں ہم میڈیا مالکان کے برابر آ بیٹھے ہیں ۔
ڈیجیٹل میں ہمیں اور میڈیا مالکان کو ایک جتنے ریسورسز ہی درکار ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ میڈیا سیٹھ اپنی ٹیم کو گاڑی میں بھیج دے گا اور آپ موٹر سائیکل پر پہنچ جائیں گے
بنیادی طور پر کارکن صحافی اپنا کامیاب ڈیجیٹل میڈیا سیٹ اپ بنا سکتا ہے ۔ یہ رعایت اخبار یا ٹی وی کی دنیا میں نہیں تھی
اب کہانی کانٹنٹ کی ہے ۔ آپ میڈیا سیٹھ سے زیادہ اچھا کانٹنٹ بنا سکتے ہیں ۔ کانٹنٹ کری ایٹر ، کیمرہ مین اور این ایل ای مل کر اپنا ڈیجیٹل سیٹ اپ چلا سکتے ہیں ۔
اسی طرح اکیلا شخص بھی کم بجٹ کے ساتھ اپنا کامیاب ڈیجیٹل سیٹ اپ چلا سکتا ہے اور ایسے لوگ زیادہ کامیاب ہیں جو خود سیکھ کر اکیلے کام کر رہے ہیں یا مشترکہ بنیادوں پر چار پانچ دوست مل کر کام کر رہے ہیں ۔ بہت مہنگے سیٹ اپ زیادہ تر ناکام رہے ہیں
دنیا موبائل جرنلزم پر آ چکی ہے ۔ میں نے بی بی سی کی ٹیم کو موبائل جرنلزم پر دیکھا ہے
اب آپ ہی اینکر ہیں ،آپ ہی اپنے کیمرہ مین ہیں ، آپ ہی ایڈیٹر ہیں اور آپ ہی ایڈمن ہیں ۔
آپ اکیلے یہ سب کر سکتے ہیں
میڈیا سیٹھ یہ نہیں سمجھ پایا ، سیٹھ نے جن بڑے ناموں کو لاکھوں روپے دے کر ڈیجیٹل پر بٹھایا وہ بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ ڈالرز میں آمدن تو ٹھیک ہے لیکن اس کا اخراجات کے ساتھ توازن کیسے برقرار رکھنا ہے ۔ یہ اخبار یا ٹی وی چینل تو نہیں جس میں سفارشی اشتہارات سے کام نکل سکے گا ۔ یہاں تو سب کچھ سکرین پر موجود ہے
یہ سب سیکھنے سے آئے گا
اب چھوٹے سیٹ اپ زیادہ کامیاب نظر آئیں گے کیونکہ وہ کم بجٹ کے ساتھ زیادہ کما رہے ہوں گے
بڑے اور مہنگے سیٹ اپ اخراجات اور انکم کے توازن میں
ناکام رہے تو ایک وقت کے بعد تکلیف دینے لگیں گے
آپ کو یوٹیوب باقاعدہ سیکھنا ہو گا
کسی ادارے سے سیکھیں ، کسی ایکسپرٹ کے ساتھ جڑ جائیں ،کسی کمپنی میں انٹرنی کے طور پر چھ ماہ مفت کام کر کے سیکھ لیں یا پھر یوٹیوب سے ہی یوٹیوب سیکھ لیں ۔(سید بدرسعید)۔۔
