ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی کوئٹہ خود کو راؤ انوار سمجھنے لگا۔ اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کو لاک اپ میں بند کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ تین صحافیوں کو لاک اپ کرڈالا۔۔تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او گوالمنڈی کوئٹہ کی پولیس گردی, ایس ایچ او گوالمنڈی نے کوریج کے لیے تھانے جانے والے تین صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔: صحافی عصمت سمالانی ، عبد الحمید ، اور شمس اللہ کو ایس ایچ او نے تھانے میں بلاوجہ قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لاک اپ میں بند کردیا۔دریں اثنا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گوالمنڈی پولیس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایس ایچ او گوالمنڈی نے صحافیوں کو حبس بے جا میں رکھ کر قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ واقعے میں ملوث ایس ایچ او گوالمنڈی کو معطل کرکے ضابطے کی سخت کارروائی کی جائے، بی یو جےکاکہنا ہے کہ قانون کے محافظ شریف شہریوں کو سرعام بربریت کانشانہ بنا رہے ہیں ، صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض سے روکنا ، قواعدو ضوابط کی سنگین خلاف ورزی اور ازادی صحافت پر براہ راست حملہ ہے ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا کوئٹہ پولیس کے خلاف سخت احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔۔
