کرپٹ افسران کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے، ترجمان این سی سی آئی اے۔۔

ڈکی بھائی کی جانب سے اپنے قید او رمقدمہ کی وڈیو سامنے آنے اور این سی سی آئی اے پر مختلف الزامات سامنے آنے پر این سی سی آئی اے لاہور کے ترجمان نے ’ڈان‘ کی جانب سے الزامات پر تبصرہ طلب کرنے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی افراد کرتے ہیں، ادارے نہیں۔ترجمان نے کہا کہ این سی سی آئی اے اپنے افسران کی کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی سخت پالیسی رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے سے متعلق تمام کارروائیاں میرٹ پر اور مکمل قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھ رہی ہیں، اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن میں تحقیقات پہلے ہی جاری ہیں۔28 اکتوبر کو، این سی سی آئی اے کے 6 اہلکاروں کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات پر گرفتار کر کے ریمانڈ پر لے لیا گیا تھا۔بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ 6 افسران کو ’اختیارات کے غلط استعمال اور رشوت کے الزامات میں ایف آئی اے کی حراست میں لے کر گرفتار کیا گیا‘ ہے اور انہیں ضلعی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں وہ ان کی نمائندگی کریں گے۔علی اشفاق کے مطابق، ان 6 اہلکاروں میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، انچارج زوار، سب انسپکٹر علی رضا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، یاسر گجر اور مجتبیٰ کامران شامل ہیں۔اس کیس کی ایف آئی آر سعد الرحمٰن کی اہلیہ عروب جتوئ کی درخواست پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں 9 افراد کے خلاف درج کی گئی تھی، جن میں این سی سی آئی اے کے 8 اہلکار بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں