ڈیجیٹل دہشت گردی، صحافیوں،تجزیہ کاروں،سابق افسران نے فیصلہ مستردکردیا۔۔

پاکستان سے باہر مقیم پاکستانی صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سابق سرکاری افسران کے ایک گروہ نے پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ طور پر عدم موجودگی میں سنائی گئی فوجداری سزاؤں اور فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات اس ہفتے جاری کیے گئے ایک باضابطہ مشترکہ بیان میں کہی گئی۔ جرنلزم پاکستان کے مطابق یہ بیان صحافیوں شاہین صہبائی، ڈاکٹر معید پیرزادہ، صابر شاکر اور وجاہت سعید خان، اور کرنل (ر) سید اکبر حسین، سید حیدر رضا مہدی اور ریٹائرڈ میجر عادل فاروق راجا کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیا گیا۔دستخط کنندگان کے مطابق، یہ مبینہ فیصلے 9 مئی 2023 کے واقعات سے منسلک ہیں، اور انہیں ان سزاؤں کے بارے میں صرف میڈیا رپورٹس کے ذریعے اس وقت معلوم ہوا جب مبینہ طور پر فیصلے سنائے جا چکے تھے۔ انہوں نے اپنا بیان بین الاقوامی برادری سے مخاطب کرتے ہوئے جاری کیا، جس میں مختلف حکومتیں، کثیرالطرفہ ادارے، انسانی حقوق کے عالمی نظام، میڈیا تنظیمیں اور قانونی مبصرین شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ  وہ کسی بھی ایسے عدالتی عمل کی قانونی حیثیت، جواز یا قابلِ نفاذ ہونے کو تسلیم نہیں کرتے جو ان کے علم یا شرکت کے بغیر انجام دیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ تو کسی الزام کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا، نہ سمن یا فردِ جرم فراہم کی گئی، نہ سماعتوں کی اطلاع دی گئی، نہ شواہد تک رسائی دی گئی، اور نہ ہی انہیں اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے پیش ہو کر اپنا دفاع کرنے کا موقع دیا گیا۔بیان کے مطابق، ایسے عدالتی اقدامات جو اطلاع، شواہد کی فراہمی یا سنے جانے کے حق کے بغیر کیے جائیں، عدالتی انصاف کے بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتے اور انہیں انصاف کے بنیادی اصولوں کے تحت قانونی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا آئین ہر فرد کو قانون کے مطابق برتاؤ، شخصی تحفظ، اور منصفانہ سماعت و قانونی طریقۂ کار کا حق دیتا ہے۔ دستخط کنندگان کے مطابق، بغیر شرکت یا مؤثر دفاع کے سنائی جانے والی سزائیں ان آئینی ضمانتوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض حالات میں ملکی قانون کسی شخص کی عدم موجودگی میں محدود کارروائی کی اجازت دے سکتا ہے، تاہم ایسی دفعات قانونی طور پر اطلاع، نمائندگی اور سنے جانے کے حق کو ختم نہیں کر سکتیں۔ ان کے بقول، رپورٹ شدہ اقدامات آئینی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہیں۔بیان میں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق اور عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے اصول شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ہر فرد کو ایک آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے سامنے منصفانہ اور علانیہ سماعت، اپنی موجودگی میں مقدمہ چلنے، اور اپنی پسند کے قانونی معاون کے ذریعے دفاع کا حق حاصل ہے۔دستخط کنندگان نے بین الاقوامی صحافتی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کی جانب بھی اشارہ کیا جن میں پاکستان میں صحافیوں اور ناقدین کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کے استعمال اور عدالتی آزادی پر دباؤ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ان کے خلاف اقدامات کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین، بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام، اور قابلِ اطلاق غیر ملکی قانونی نظاموں کے تحت دستیاب تمام قانونی حقوق اور ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جن میں قومی اور بین الاقوامی فورمز پر نظرِ ثانی اور احتساب کے لیے رجوع کرنا شامل ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی تحریری فیصلے کو شائع کیا جائے، مبینہ شواہد منظرِ عام پر لائے جائیں، عدم اطلاع یا عدم شرکت کے باوجود کارروائی کی قانونی بنیاد واضح کی جائے، اور عدالتی نظام کو دھمکانے یا سرحد پار جبر کے لیے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ انصاف کی ساکھ کا دارومدار شفافیت، منصفانہ طریقۂ کار اور عدالتی آزادی پر ہوتا ہے، اور خبردار کیا گیا ہے کہ خفیہ اور یکطرفہ کارروائیاں اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں