کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے کوئٹہ پریس کلب میں پولیس کی جانب سے مبینہ مداخلت اور صحافیوں کو کوریج سے روکنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت اور آزادی اظہارِ رائے پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔منگل کو کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے عہدیداروں نے کہاکہ پریس کلب صحافیوں اور شہریوں کے لیے ایک آزاد پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے جہاں پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک کا انعقاد ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کسی بھی ادارے کی جانب سے پریس کلب کے احاطے میں داخل ہو کر صحافتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف قابلِ افسوس بلکہ جمہوری اقدار کے منافی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹاک کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر صحافیوں کو کوریج سے روکنا اور انہیں ہراساں کرنا انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ایسے اقدامات سے صحافتی برادری میں بے چینی پھیلتی ہے اور آزادی صحافت کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔ صدر فاضل جمیلی اور سیکرٹری اسلم خان نے وفاقی وزارت اطلاعات اور بلوچستان حکومے سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلبوں کے تقدس کا ہر حال میں احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔کراچی پریس کلب نے واضح کیا کہ ملک بھر کے پریس کلب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایسے واقعات کا تدارک نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
