wazir e azam ki sarbarahi mein national digital commission ki tashkeel ka faisla

پاکستان سے افغان صحافیوں کی ملک بدری روکنے کا مطالبہ۔۔

 عالمی صحافتی آزادی کی تنظیموں نے پاکستان  حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے افغان صحافیوں کی گرفتاری، حراست اور ملک بدری فوری طور پر روکی جائے، خبردار کرتے ہوئے کہ انہیں طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان واپس بھیجنا ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔تیرہ مارچ کو ارسال کئے گئے خط میں تین بڑی صحافتی تنظیموں، رپورٹرز ودھ آؤٹ بارڈرز، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلٹس  اور فری پریس ان لمیٹڈ نے کہا کہ ظلم و ستم سے بچ کر آنے والے افغان صحافی اب پاکستان میں بھی نئے خطرات کا سامنا کررہے ہیں جن میں من مانی گرفتاریاں اور جبری ملک بدری شامل ہیں، تنظیموں کے مطابق پاکستان اور افغانستان  کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ خط میں حالیہ ہفتوں کےد وران افغان صحافیوں کی گرفتاریوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی،بتایاگیا کہ متعدد صحافیوں کو حراست میں لے کر ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیاگیا جب کہ دوہزار چھبیس کے آغاز سے اب تک ایسے بیس کیسز ریکارڈ کئے جاچکے ہیں۔ تنظیموں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ پندرہ دنوں میں کم از کم چھ افغان صحافیوں کو زبردستی افغانستان بھیجاگیا ہے، جس کے بعد جنوری سے اب تک ملک بدرکئے جانے والوں کی تعداد نو ہوگئی ہے، ان کے مطابق یہ افراد طالبان کےدورحکومت میں انتقامی کارروائی، من مانی حراست اور دیگر مظالم جیسے سنگین اور متوقع خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں،۔ ان تنظیموں نے وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اس عمل کو روکیں، جسے انہوں نے جبر کی ایک منظم شکل قراردیا، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ  “نان ریفاؤلمنٹ” کے اصول کا احترام کیا جائے، جس کے تحت کسی بھی فرد کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اسے سنگین خطرات لاحق ہوں۔خط میں سفارش کی گئی کہ صرف امیگریشن اسٹیٹس یا شہریت کی بنیاد پر زیرِ حراست افغان صحافیوں کو فوری رہا کیا جائے، اور تیسرے ممالک میں منتقلی کے منتظر افراد کے لیے عارضی تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ خصوصاً اسلام آباد میں ہراسانی، بھتہ خوری اور غیر قانونی حراست کا سلسلہ بند ہو۔خط میں زور دیا گیا کہ متاثرہ صحافیوں کی بڑی تعداد افغانستان سے طالبان کے ظلم سے بچنے کے لیے فرار ہوئی تھی، اس لیے ان کی واپسی انہیں شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔یہ صورتحال خطے میں بے گھر صحافیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان جیسے میزبان ممالک میں ان کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسیز بنائی جائیں۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں