bijli ke mein ptv fees khatam karne ka faisla

ٹی وی لائسنس فیس ختم کرنے پر پی ٹی وی کے سابق افسران کا اہم اجلاس۔۔

 پاکستان ٹیلیویژن کے سابق سینیئر افسروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی وی کی بقاء اور استحکام کے لیے قابلِ عمل منصوبے کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ اس ادارے کے کارکن مکمل خود اعتمادی اور یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں، اور یہ عظیم ادارہ قومی سلامتی کے تحفظ اور ہماری تہذیبی اَقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتا رہے۔پی ٹی وی کے سابق سینیئر افسروں کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں سابق منیجنگ ڈائریکٹرز محمّد زبیر اور قاضی مصطفٰی کمال، شعبۂ خبر کے سابق ڈائریکٹرز شکور طاہر، سیّد جاوید علی، خالد وڑائچ، مزمل احمد خان، شاذیہ سکندر، اویس بٹ، مرزا راشد بیگ اور عارف محمود، نیُوز کے سابق کنٹرولرز ڈاکٹر زیڈ اے قریشی، سلیم جاوید، ارشد سلیم، ایوب منہاس، رمضان خالد اور عصمتُ اللہ نیازی نے شرکت کی۔ سابق ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر مصطفٰی کمال مندوخیل، نیُوز اور کرنٹ افیئرز کے سابق ڈائریکٹر سرور منیر راؤ، اور سابق کنٹرولر نیُوز نذیر تبسّم، جو ان دنوں غیر ملکی دورے پر ہیں، وڈیو لنک کے ذریعے، اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کے شرکاء نے ٹی وی لائسنس فیس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے اور اُس کے مضمرات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہُوئے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان ٹیلیویژن کے کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس اور مایوسی پیدا ہوئی ہے جس سے اُن کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ شرکاء نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ حکومت نے اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور و خوض کیے بغیر، جلد بازی میں، یہ فیصلہ کیا ہے جس کے منفی اثرات پاکستان ٹیلیویژن کی مجموعی کارکردگی کے لئے شدید نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ شرکاء نے اس امر پہ افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے عجلت میں یہ فیصلہ کرتے وقت نہ تو ماہرینِ اِبلاغیات سے کوئی مشاورت کی اور نہ ہی ٹیلیویژن نشریات کے بنیادی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت نے یہ دور رس فیصلہ کرنے سے پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو بھی اعتماد میں لینے سے گریز کیا۔ اجلاس میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی کہ اگر یہ حکومتی فیصلہ چند دن پہلے منظرِ عام پر آتا تو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ارکان کو اس اہم مسئلے پر اِظہارِ خیال کا موقع ملتا، اور حکومت پر یہ الزام نہ آتا کہ اُس نے مالیاتی بل کے ذریعے اس معاملے کی پارلیمنٹ سے منظوری نہ لے کر آئینی تقاضوں سے انحراف کیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے رائے عامہ کی توجّہ اس طرف دلائی کہ ٹی وی لائسینس فیس صرف پاکستان میں لاگو نہیں بلکہ برطانیہ، جاپان اور کئی دوسرے ملکوں میں بھی نافذ ہے۔ ایسی لائسینس فیس کے ذریعے قومی نشریاتی ادارے کو ضروری فنڈز مہیا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ ملکی مقاصد کے حصول، ثقافتی ورثے کی حفاظت اور تہذیبی اَقدار کی ترویج کے لیے خدمات انجام دے۔ اجلاس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ گزشتہ 2 عشروں کے دوران حکومتی عدم توجّہ کی وجہ سے پاکستان ٹیلیوژن پہلے ہی شدید بد انتظامی اور مالی زبوں حالی کا شکار ہے، اور اُس کے بوڑھے پینشنرز کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے پی ٹی وی کے ملازمین اور پینشنرز کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ اجلاس کے شُرکاء نے حکومت کو توجّہ دلائی کہ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور دُشمن ملک کے ساتھ جنگ کے امکانات ختم نہیں ہوئے، پاکستان ٹیلیوژن جیسے قومی نشریاتی ادارے کو مالی اور تکنیکی لحاظ سے مستحکم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اُس کے کارکن مکمل ذہنی آسودگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔اجلاس میں آل پاکستان پی ٹی وی پینشنرز اتحاد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ اطلاعات کے حکام سے اپیل کی گئی کہ پینشنرز کے مطالبات جلد از جلد منظور کئے جائیں اور اُنہیں اپنے حق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچایا جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں