کراچی میں وڈیوجرنلسٹ پر لینڈ مافیا کے تشدد کا مقدمہ درج ہوئے دو روز گزر گئے لیکن پولیس کسی ایک نامزد ملزم کوگرفتار نہ کرسکی،کراچی کے ضلع کورنگی کی یوسی فور کھوکھراپار میں شمس ہوٹل کے سامنے سرکاری بس ڈپو کی زمین پر قبضہ کرنے والے لینڈ گریپرز نے وڈیو جرنلسٹ ذیشان نواب کو تشدد کا نشانہ بنایا اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی متعلقہ واقعے کی ایف آئی آرکھوکھرا پار تھانے میں درج ہو چکی ۔ وڈیو جرنلسٹس پر مشتمل یونٹی گروپ کے سربراہ صدیق سنگھار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کھوکھراپار پولیس جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی کاروائی سے گریزاں ہے ایک سینئر وزیر اس زمین کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیت قرار دے چکا ہے یہاں کے ٹی سی کی بسوں کاکا اسٹاپ ہوا کرتا تھا، جب وڈیو جرنلسٹ نے سینئر وزیرسندھ شرجیل میمن کا اس ضمن میں جاری بیان سوشل میڈیا پر پوسٹ تو لینڈگریبرز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔وڈیو جرنلٹس کے یونٹی گروپ نے پولیس کے اعلیٰ حکام ، وزیر داخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذیشان نواب کو تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے اور شرجیل انعام میمن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنے محکمے کا دو ٹوک موقف سامنے لائیں سیاسی پینترے بازی پر مبنی مبہم لب و لہجہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے ذیشان نواب کو کچھ بھی ہوا تو سندھ حکومت بھی برابر کی شریک کہلائے گی ،۔۔
وڈیوجرنلسٹ پر تشدد کے ذمہ دار ملزمان گرفتار نہ ہوسکے۔۔
Facebook Comments
