وقت آنے پر صبا قمر کے مزید حقائق سامنے لائیں گے، نعیم حنیف۔۔

معروف اداکارہ صبا قمر نے صحافی نعیم حنیف کے خلاف 10 کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ اس قانونی نوٹس کے بعد نعیم حنیف نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے موقف پیش کیا۔نعیم حنیف نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ تنقید میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی خوبصورتی ہے اور وہ اسے کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شعبے میں کافی عرصے سے سرگرم ہیں اور جانتے ہیں کہ تنقید کب اصلی ہوتی ہے اور کب اسے خریدا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کئی ایسی تنقیدوں کا سامنا کیا ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ صحافی نے واضح کیا کہ وقت آنے پر وہ مزید حقائق منظر عام پر لائیں گے۔نعیم حنیف نے اپنے صحافتی کیریئر کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تربیت یافتہ ہیں اور جانتے ہیں کہ سینسرشپ کیسے کام کرتی ہے۔ وہ کبھی بھی کسی پابندی یا نوٹس سے نہیں ڈرتے اور جانتے ہیں کہ کس طرح مضبوط موقف اختیار کرنا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں اور اپنی صحافت کو صاف اور معتبر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقید میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی خوبصورتی ہے، جسے خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔ تاہم، میں اس میدان میں طویل عرصے سے کام کر رہا ہوں اور بخوبی جانتا ہوں کہ کب تنقید حقیقی اور کب خریدی ہوئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس طرح کی کئی تنقیدیں دیکھ چکا ہوں اور انہیں سنبھالنا جانتا ہوں۔ یہ لوگوں کے لیے تنازع ہوگا، میرے لیے تو نہیں ہے۔انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں میڈیا کے بانیوں سے تربیت یافتہ ہوں، اور مجھے معلوم ہے کہ سینسرشپ کیسے کام کرتی ہے۔ واضح رہے کہ نعیم حنیف نے صبا قمر کے کسی شخص کے ساتھ تعلقات کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ 2003 سے 2004 کے دوران لاہور کے والٹن روڈ پر اسی شخص کے فراہم کردہ مکان میں مقیم تھیں۔ نعیم حنیف نے مزید الزام لگایا کہ تعلقات ختم ہونے کے بعد یہ شخص اداکارہ کو ہراساں کرنے لگا اور صبا قمر متعلقہ معاملے کے لیے جنگ کے دفتر بھی گئی تھیں۔صبا قمر نے ان تمام دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا اور قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے نعیم حنیف کو 10 کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں