وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے تھانہ کرپہ کی حدود میں معروف صحافی اور انویسٹیگیشن رپورٹر قاسم منیر پر مبینہ طور پر قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے حملہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق قاسم منیر کو جمعہ کی شب نامعلوم افراد نے اغوا کیا، انہیں نامعلوم مقام پر لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور بعد ازاں تشویش ناک حالت میں تھانہ کرپہ کے قریب پھینک دیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قاسم منیر کو شدید زخمی حالت میں مقامی رہائشیوں نے دیکھا، جنہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔ذرائع کے مطابق قاسم منیر کو گزشتہ کئی دنوں سے سنگین نوعیت کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، جن کی اطلاع انہوں نے متعلقہ حکام کو دی تھی، تاہم ان کی سیکیورٹی کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں اور میڈیا حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔دریں اثنا مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے اسلام آباد میں صحافی قاسم منیر پر تشدد اور اغواء کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاسم منیر پر تشدد کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے،صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،تابش قیوم کا کہنا تھا کہ قاسم منیر پر تشدد،اغوا کے واقعہ کی تحقیقات کروائی جائیں اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،آزادی صحافت کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے،صحافیوں کو دھمکیاں،تشدد جیسے واقعات ناقابل برداشت،ناقابل معافی ہیں، صحافی قاسم منیر کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔۔
وفاقی دارالحکومت میں صحافی پر اغوا کے بعد تشدد۔۔
Facebook Comments
